اکثر ہمارے ہاں کچھ ایسی روایتیں اپنائی جاتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے، کبھی چہرے پر سرمے کا کالا ٹپکا لگایا جاتا ہے تو کبھی گاری کے نیچے جوتا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام ایک ایسی ہی خبر لے کر آئی ہے جس میں آپ کو بتائیں گے کہ لوگ کس طرح بُری نظر کی کاٹ کے طور پر نت نئے انداز اپناتے ہیں۔
گاڑیوں میں جوتے لٹکانا:
اکثر ٹرکوں، بسوں، رکشوں حتیٰ کہ کاروں میں بھی جوتے لٹکتے ہوئے دیکھیے جاتے ہیں، یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ بچے کا جوتا لٹکانے سے گاڑی محفوظ رہتی ہے، پھر چاہے گاڑی کو ہوائی جہاز کی مانند ہی کیوں نا چلایا جائے۔
خیر یہ سوچ تو بدلنے میں کافی وقت درکار ہے، مگر اگر مان لیں کہ جوتے لٹکانے سے نظر نہیں لگتی تو ایک جوتے کا ہار اپنے گلے میں بھی ڈالا جا سکتا ہے، جس سے لوگ بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بُرا نہ منائیے یہ صرف فرضی بات ہے۔
کالا ڈاٹ:
اکثر بچوں کے چہرے پر سُرمے سے کالا نشان بنایا جاتا ہے، جو کہ مانا جاتا ہے کہ نظر سے بچاتا ہے، اگر یہ بھی سچ ہے تو کیوں نا چہرے کو ہی کالا کردیں، اس طرح منہ کالا کر کے آپ نظر سے بچ جائیں گے۔
دانت چوہے نہ کھا جائیں:
جب کبھی بچوں کے دانت ٹوٹتے ہیں، تو یہ کہا جاتا ہے کہ دانتوں کو ایسی جگہ پھیکنا جہاں چوہے اس دانت کو نہ چھو سکیں، اگر چوہوں نے چھو لیا تو تمہارے دانت چوہے جسیے نکلیں گے۔
اگر یہ بھی سچ ہے تو بھائی پھر ان لوگوں کے دانتوں کو ڈریکولا کو دینے چاہیے جو ایک دوسرے کا "خون چوستے" ہیں، اس طرح انہیں خون چوسنے میں مدد مل سکتی ہے۔