ہمارے ہاں رواج ہے کہ جب کبھی شادی کا ارادہ ہو تو پہلے اپنی چادر دیکھنی پڑتی ہے پھر پاؤں پھیلانے کا سوچتے ہیں، کیونکہ ہال کا خرچہ، کھانے کا اور دیگر انتظامات کا خرچہ اتنا ہوتا ہے کہ بندہ شادی کرنے کا ارادہ ہی تُرک کر دیتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی جوڑے سے متعلق بتائیں گے جس نے نکاح کے بعد غیر ضروری رسومات سمیت دیگر خرچے کے بجائے ایک نئی مثال قائم کی۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سبحان اور سعدیہ دونوں ملازمت کرتے ہیں۔ سبحان ڈاکیومنٹریز بناتے ہیں اور سعدیہ ایک 5 اسٹار ہوٹل میں مارکیٹنگ مینیجر ہیں۔ دونوں کی معاشی صورتحال ایسی ہے کہ لاکھوں روپے خرچ کر سکتے تھے اپنی شادی پر۔ مگر ایک نئی مثال قائم کرنے کے لیے کسی کو تو آگے آنا پڑتا ہے۔
سعدیہ اور سبحان نے بھی اسی مثال کو قائم کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھایا، سعدیہ کہتی ہیں کہ یہ ہماری خود کی چوائس تھی کہ ہم اس طرح شادی کریں۔
سعدیہ اور سبحان کی شادی 19 مئی 2018 کو ہوئی تھی، جوڑے نے شادی سادگی سے کی اور ہنی مون کے لیے نتھیا گلی کا انتخاب کیا۔ شادی بھی کوئی خاص نہیں تھی گھر والے، رشتہ دار اور کچھ دوست احباب کی موجودگی میں نکاح کی تقریب رکھی گئی۔
جوڑے نے ولیمے کے طور پر ایدھی سینٹر میں بچوں کو کھانا کھلا کر اپنا ولیمہ یادگار بنایا، جبکہ اس کے بعد نتھیا گلی کو چل دیے۔ اس سادہ شادی پر سوشل میڈیا بھی معترف تھا۔
ہنی مون سے آنے کے اگلے دن ہی جوڑے نے اپنے آفس کو جوائن کر لیا، دلہن نے زیورات نہیں پہنے تو دلہے نے شیروانی بھی نہیں پہنی۔ ڈھول باجے بھی نہیں تھے اور بھاری میک اپ بھی نہیں تھا۔ ایسی شادی جس میں کوئی فضول رسم شامل نہیں تھی، مہندی، مایوں، بارات، اور دیگر رسومات اس شادی میں نہیں تھیں۔
سماء کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سعدیہ کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ہمارے والدین سمجھدار ہیں جنہوں نے ہمیں سمجھا، شروعات میں والدین حیران تھے، اور وجوہات جاننا چاہ رہے تھے مگر ہم ڈٹے رہے اور کامیاب رہے۔
سبحان کا کہنا تھا کہ یہ آیڈیا ہم دونوں کا تھا، ہم دونوں بہترین دوست تھے اور 3 سے 4 سال سے ایک دوسرے کو جانتے تھے، اور پھر فیصلہ کیا کہ ہمیں شادی کرنی چاہیے۔ سعدیہ کہتی ہیں کہ آج کل قرضہ لے کر، گھر کو بیچ کر شادی کرتے ہیں، جبکہ یہی شادی سادگی سے بھی ہو سکتی ہے۔ ہم نے اسی روایت کو توڑنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔
سعدیہ اور سبحان کی شادی اس بات کا ثبوت ہے کہ سادگی کے ساتھ بھی شادی کی جا سکتی ہے، سماج کی خاطر مجبور ہو کر نقصان اٹھا کر شادی کرنے سے بہتر ہے کہ نکاح کر کے غریبوں میں کھانا کھلا دیا جائے۔ سعدیہ اور سبحان نے بھی ایدھی کے بچوں کو کھانا کھلا کر سب کے لیے ایک نیا راستہ نکال دیا ہے۔