سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے عسکری پارک متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو 2 ہفتوں میں عکسری پارک کا انتظام اور شادی ہال ختم کروانے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس نے وکیل دفاع سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارک کو اس لیے دیا گیا تھا تاکہ اس پر قبضہ نہ ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہاں جھولے چل رہے ہیں، بچے گر کر مر رہے ہیں، کیسے جھولے لگائے ہیں وہاں؟
بعدازاں جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ہم حکم دے رہے ہیں پارک کی زمین کو کے ایم سی کو واپس کردیں۔ عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ کے ایم سی پارک کا انتظام سنبھالیں اور عوام سے کوئی چارجز وصول نہ کئے جائیں۔ جبکہ پارک کی زمین پر موجود شادی ہال اور دکانوں کو ختم کرنے کا بھی حکم جاری کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ دو ہفتوں میں عسکری پارک کو کے ایم سی کے حوالے کیا جائے، جبکہ کے ایم سی جھولے اپنے لگائے اور ان کے جھولے واپس کردیں۔