پاکستانی کرنسی نوٹوں کی اہمیت سے ہر کوئی واقف ہیں اور اسے کتنا اہم سمجھتے ہیں یہ ہم سب جانتے ہیں، لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب انہی نوٹوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی واقعہ سے متعلق بتائیں گے۔
24 دسمبر 1957 کو ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جس نے مذہبی جماعتوں سمیت مسلمانوں کو اشتعال دلایا تھا۔ اس عمل نے نہ صرف پاکستانیوں بلکہ دنیا بھرکی توجہ بھی حاصل کی تھی۔
ہوا کچھ یوں تھا کہ اسکندر مرزا کے دور میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کچھ ایسے نوٹ جاری کیے گئے تھے جن پر پہلی بار قائد اعظم کی تصویر موجود تھی۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ نوٹ قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے بنائے گئے تھے۔ لیکن نوٹوں پر قائداعظم کی تصویر کی موجودگی کی اطلاع ملتے ہی عوام میں غم و غصہ پھیل گیا۔
عوام میں غم و غصہ پھیلنے کی وجہ یہ تھی کہ قائداعظم کی جانب سے ڈاک ٹکٹ پر اپنی تصاویر لگانے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا قائداعظم کا موقف تھا کہ میری تصویر کے بجائے قومی چیز یا کسی ثفاقت اور قومی عمارت کی تصویر لگائی جائے۔
نوٹوں پر قائداعظم کی تصویر لگانے پر مذہبی جماعتوں سمیت علماء کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی صدر مولانا عبدالحامد بدایوانی کی جانب سے اس عمل پر شدید احتجاج کیا گیا اور قائداعظم کی زندگی میں ڈاک ٹکٹ کے معاملے پر پیش آنے والے واقعہ کو یاد کرایا۔
کُل پاکستان دستور پارٹی کے سربراہ مولانا اسد القادری کی جانب سے تمام مسلمانوں کو قائداعظم کی تصاویر والے 100 کے نوٹوں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی گئی اور کہا کہ اس طرح حکومت اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
مرکزی جمعیت علمائے اسلام کے نائب صدر مولانا مفتی محمد شفیع کی جان سے کہا گیا کہ ’انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قائداعظم اور پاکستان، آج کل نادان دوستوں یا دانا دشمنوں کے ہاتھوں ایسے مظلوم ہیں کہ ان کی ایک ایک یادگار کو چن چن کر مٹایا جا رہا ہے اور ستم ظریفی یہ کہ یہ سب کچھ انھیں کا نام لے کر کیا جا رہا ہے۔‘
اگرچہ مذہبی جماعتیں اپنے موقف پر قائم رہیں مگر وہ 100 کا نوٹ جس پر قائد کی تصویر موجود تھی وہ ختم نہ ہو سکا بلکہ اس دن کے بعد سے اب قائد کی تصویر والے نوٹ ہی مارکیٹ میں آنے لگ گئے۔