پاکستان میں ہمیشہ ہی سے ان لوگوں کو اہمیت اور شہرت ملتی ہے جو عوام کے غم میں شریک ہوتے ہیں، ایسے لیڈرز کو قوم ہمیشہ ہی یاد رکھتی ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو جنرل ضیاء سے متعلق بتائیں گے۔
پاکستان میں تیسرا مارشل لاء لگانے والے جنرل ضیاء پاکستانی عوام میں اپنے مذہبی لگاؤ اور نظریہ کی وجہ سے مقبول تھے، ان کے سخت قوانین اگرچہ صحافیوں اور سول سوسائٹی کے لیے بند راستہ تھے مگر پاکستانی عوام میں ان کی مقبولیت کسی سے کم نہیں تھی۔
ان کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا تھا جس نے سب کو ان کا گرویدہ بنا دیا تھا۔
16 نومبر 1983 کو جب صدر ضیاء الحق اپنے قافلے کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب رواں دواں تھے، عین اسی وقت راستے میں انہیں بھیڑ دکھائی دی۔
ان کے قافلے میں موجود سیکیورٹی نے سائرن کے ذریعے قافلے کے لیے راستہ بنانے کی کوشش کی مگر اس وقت سب حیران ہو گئے جب جنرل ضیاء اپنی گاڑی سے اتر گئے، دراصل وہ بھیڑ ایک جنازے کی وجہ سے جمع ہوئی تھی، جنازہ کو جنازہ گاہ کی جانب لے جایا جا رہا تھا۔
یہ منظر جب جنرل ضیاء نے دیکھا تو ان سے رہا نہ گیا اور فورا گاڑی سے اتر کر جنازے کو کندھا دینے پہنچ گئے، یوں اس طرح عام لوگوں میں گھل مل کر جنازے کو کندھا دیتے دیکھ ہر کوئی مزید جذباتی ہو گیا۔
لیکن جنرل ضیاء کے اس عمل نے پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کی محبت مزید بڑھا دی۔ یہ جنازہ حاجی ولایت کا تھا، جس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ اس جنازے کو جنرل ضیاء جنازہ گاہ تک لے گئے تھے۔