کہتے ہیں جائیداد ہمیشہ ہی خاندانوں میں تنازعے کی وجہ بن جاتی ہے۔ خاص طور پر اگر یہ جائیداد کروڑوں میں ہو تو سگے رشتوں میں بھی پھوٹ پڑ جاتی ہے جو کہ ہر گز اچھی بات نہیں۔ ایسا ہی کچھ ہوا بھارت کی مشہور ریاست رامپور کے آخری نواب کے ہاں جن کی ڈھائی ہزار کروڑ کی جائیداد کا تنازعہ اب 49 سال بعد حل ہونے جارہا ہے۔
جائیداد میں کیا کیا شامل ہے؟
وکیل کے مطابق ’رامپور کے آخری نواب، نواب رضا علی خان کی رامپور کوٹھی خاص باغ، بے نظیر باغ، لکھی باغ، کنڈا اور نواب ریلوے سٹیشن میں پانچ جائیدادیں تھیں۔ یہ پانچ جائیدادیں نواب رضا علی خان کی تھیں۔ اور یہ ان کی ذاتی جائیدادیں تھیں۔‘
اس کے علاوہ نواب صاحب کے آباؤ اجداد کی بنایا گیا محل جو نواب صاحب کے دور میں مکمل ہوا، رامپور کی سب سے بڑی جائیداد سمجھا جاتا ہے۔ اس محل کے 205 عالیشان کمرے ہیں اور یہ محل ایشیاء کا پہلا مکمل ائیر کنڈیشنڈ محل ہے۔
دولت کے وارث
نواب رضا علی خان کا انتقال 1966 میں ہوا۔ مرحوم کے ورثاء میں ان کی تین بیگمات رفعت زمانی، قیصر زمانی اور طلعت زمانی کے علاوہ تین بیٹے مرتضیٰ علی خان، ذوالفقار علی خان اور عابد علی خان اور چھ بیٹیاں خورشید لقا بیگم، برجیس لقا بیگم، قمر لقا بیگم، اختر لقا بیگم اور ناہید لقا بیگم اور مہرالنساء شامل ہیں۔
کئی زمانوں سے کیس التواء کا شکار ہونے کی وجہ سے اب نواب صاحب کے بچوں کے بھی بچے ہوگئے ہیں اور کل ملا کر جائیداد کے 16 دعویدار ہوگئے ہیں۔
دولت شرعی طریقے سے تقسیم ہوگی
خاندان اور وکیل کے مطابق جائیداد کی تقسیم کا فیصلہ عدالت شرعی قوانین کے مطابق کرے گی۔ کیس میں تاخیر کی وجہ خاندانی رنجشیں تھیں جنھیں اب شرعی طریقے سے جائیداد تقسیم کرکے حل کرلیا جائے گا۔