پاکستان افغان مہاجرین کو نہ صرف پناہ دیے ہوئے ہے مگر انہیں ہر طرح کی آسائشیں بھی فراہم کیے ہوئے ہے لیکن کچھ افغان باشندے ایسے بھی ہیں جنہیں یہ خیر سگالی راز نہیں ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
گزشتہ دنوں پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کی جانب سے کراچی میں جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں بڑی تعداد میں افغانیوں کی جانب سے بھی شرکت کی گئی۔
سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہیں جس میں افغان باشندوں کو قومی پرچم تھامے کراچی میں دیکھا جا سکتا ہے، دوسری جانب ان افغان باشندوں کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا جاتا ہے کہ یہ آزادانہ طور پر افغان پرچم لہرا رہے ہیں، جو کہ اچھی بات ہے مگر جب پاکستانی پرچم افغانستان میں لہرایا جاتا ہے تو تلملا سے جاتے ہیں۔
پاکستان اس وقت بھی ان افغان باشندوں کو دل کھول کر سپورٹ کر رہا ہے، حتٰی کہ ان جلسوں میں پاکستان مخالف بیانیہ بھی قائم کیا جا رہا ہے، خاص کر لار و بار کے نام سے، جو کہ پاکستان اور افغانستان کو ملاتی سرحد دیورند لائن ہے جسے افغانی قبول نہیں کرتے ہیں۔
اس حوالے سے ان کا ماننا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے کئی حصے افغانستان کے ہیں، لیکن اس بیانیے کو خود افغانستان کی سرکار بھی اہمیت نہیں دیتی ہے۔
دوسری جانب افغانستان میں پاکستانی پرچم کو ہی نظر آتش کیا جاتا ہے لیکن پاکستان اور پاکستانی قوم نے ایسی کوئی غیر اخلاقی اور گری ہوئی حرکت نہ کر کے ثابت کیا ہے کہ پاکستانی قوم اب بھی افغانستان کو سپورٹ کر رہی ہے۔
لیکن اس طرح پاکستانی سر زمین میں، پاکستان میں رہ کر افغانستان کا پرچم لہرانا، یہ پاکستان اور پاکستانیوں کی فراخ دلی ہے، جو کہ ان کی نفرت کو بھی قبول کر رہے ہیں، یہ اس بات کو بھی واضح کر رہی ہے کہ پاکستان افغانستان کو ہر معاملے میں سپورٹ کر رہا ہے۔