کہتے ہیں کہ اگر دنیا میں جنت دیکھنی ہے تو کشمیر چلے جائیں، لیکن اس جنت نما وادی کے لوگوں کے دل بھی اتنے ہی صاف ہیں۔ جبکہ خوبصورتی میں بھی وادی کی طرح ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ان کشمیری والدین کے بارے میں بتائیں گے جنہیں اپنے بچوں کی شہادت پر فخر تو ہے مگر انہیں اولاد کا آخری دیدار تک نہیں کرایا گیا۔
اطہر مشتاق:
42 سالہ کشمیری والد مشتاق احمد وانی اپنے 16 سالہ بیٹے اطہر کی ایک جھلک دیکھنے کو اب بھی بے تاب ہیں، حالانکہ انہوں نے یہ تک سوچ لیا ہے کہ بیٹا شہید ہو گیا ہوگا۔ لیکن شہید کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔
آںکھوں میں آنسو، آواز میں درد اور چہرے پر بیٹے کی طلب، والد کا کہنا تھا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو انکاؤنٹر میں مارا جا رہا ہے اور ہندوستان اس پر خوش ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میںں سرینگر جاؤنگا اور اگر میرے بچے کی لاش نہیں ملی تو میں وہیں خودکشی کرلوں گا۔
یہ پہلا باپ ہے جو کہ اپنے بیٹے کی قبر بھی خود کھود رہا ہے اور اسی انتظار میں ہے کہ کب بیٹا واپس ملے گا۔ لوگ اپنے بچوں کا انتظار کرتے ہیں، اور ان کا کمرہ تیار کرتے ہیں لیکن یہ والد خوش قسمت بھی ہے کہ اطہر نے جام شہادت نوش کیا مگر دوسری جانب اپنے ہی بیٹے کے جسد خاکی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بھی تڑپ رہا ہے۔
شہید باسط:
باسط بھی ایک جانباز کشمیری نوجوان ہے جس نے دشمن کے آگے جھکنے کے بجائے سینہ تان کر ثابت کیا کہ ہاں وپ کشمیری ہے۔
والدہ کہتی ہیں کہ میرے بیٹے نے بھارت میں رہنے کی قیمت چکائی ہے، آج میری دنیا ہی ختم ہو گئی ہے، سب کچھ چلا گیا ہے۔ یہ ظالم ریاست ہمیں پُر امن طریقے سے کہیں بھی نہیں رہنے دے رہی ہے جبکہ باسط کے والد کچھ سال قبل انتقال کر گئے تھے۔
یہ اکلوتی کشمیری ماں نہیں ہیں، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ دیگر کشمیری والدہ بھی اپنے بچوں کو کھو چکی ہیں۔