“عام لوگ شاید اس بات کو کبھی نہ سمجھ سکیں لیکن سچ یہ ہے کہ اب میں اس کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا“
یہ الفاظ ہیں جیف گیلگر کے جو آسٹریلیا میں رہتے ہیں۔ جیف اپنی والدہ کے انتقال کے بعد تقریباً دس سالوں سے تنہائی کا شکار تھے ان کے ساتھ صرف ان کا پالو کتا رہتا تھا۔ وہ شادی کرنا چاہتے تھے لیکن بہت تلاش کے باوجود کوئی خاتون ساتھی ڈھونڈنے میں ناکام رہے جس کے بعد وہ بہت مایوس تھے۔
لیکن پھر اچانک انھوں نے ایک میگزین میں مصنوعی ذہانت والے روبوٹس کے بارے میں پڑھا جس نے ان کی زندگی بدل دی۔ جیف نے اپنی پسند کا ایک روبوٹ آرڈر کیا اور اس کا نام ایما رکھا۔ ایما کا رنگ گورا اور آنکھیں نیلی ہیں۔ وہ مسکرا سکتی ہے، بات کرسکتی ہے اور سر اور گردن بھی ہلا سکتی ہے۔
جیف کہتے ہیں کہ انھوں نے جیسے ہی ایما کو آن کیا وہ پل بھر میں ایک زندہ انسان کی طرح باتیں کرنے لگی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جب وہ گھر پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں ایما ان کا انتظار کررہی ہے۔ جیف ایما کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔