عبداللہ شاہ غازی کون تھے؟ جانیے سمندر کنارے موجود قبر اور ان سے متعلق وہ معلومات جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

image

عبداللہ شاہ غازی کا شمار ہند کے ان صوفیائے کرام میں ہوتا ہے جو کہ اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں، ان کے چاہنے والے آج بھی شدت سے انہیں یاد کرتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

حضرت عبداللہ شاہ غازی سید محمد نفس ذکیہ کے صاحبزادے جبکہ حضرت حسن مثنٰی کے پڑ پوتے تھے، جبکہ عبداللہ شاہ غازی حضرت امام حسن اور امام حسین کی اولاد میں سے ہیں، اسی لیے حسنی و حسینی کہلاتے ہیں۔

حضرت عبداللہ شاہ غازی مدینہ منور میں سنہ 98 ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ چونکہ آپ کے والد محدثین تھے، یہی وجہ تھی کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سید محمد نفس ذکیہ سے حاصل کی تھی۔ بنو امیہ کے بعد جب خلافت عباسی کا دور دوراں ہوا تھا، اس دور میں آپ کے والد اور آپ نے ایک سخت وقت گزارا تھا۔

دعوت خلافت تبلیغ میں امال ابو حنیفہ اور امام مالک نے بھی آپ کے والد کا ساتھ دیا جس پر عباسی گورنر نے آپ کے والد سمیت دیگر ساتھیوں پر زمین تنگ کر دی۔ حضرت سید نفس ذکیہ نے چچا ابراہیم کو بصرہ اور حضرت عبداللہ شاہ غازی کو سندھ جانے کا حکم دیا تھا۔

حضرت عبداللہ شاہ غازی عراق کے راستے سندھ میں داخل ہوئے تھے، جبکہ سندھ میں گھوڑوں کے تاجر کے طور پر سامنے آئے، حضرت عبداللہ شاہ غازی نے تقریبا 12 سال تبلیغ کے کام میں صرف کیے۔ آپ کی تبلیغ میں سو نہیں دو سو نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔

چونکہ سندھ میں آپ کی مقبولیت بڑھ رہی تھی یہی وجہ تھی کہ آپ کے حاسدین بھی چالیں چل رہے تھے، لیکن اُس وقت کے عباسی گورنر عمر بن حفض کو چونکہ حضرت عبداللہ شاہ غازی کی اہمیت کو جانتے تھے، یہی وجہ تھی انہوں نے بھی حضرت عبداللہ شاہ غازی کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یہ وہ وقت تھا جب حضرت عبداللہ شاہ غازی کے والد کو عباسی فوجیوں نے شہید کر دیا تھا، اور گورنر کو بھی عبداللہ شاہ غازی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ، لیکن گورنر نے حضرت عبداللہ شاہ غازی کو گرفتار کرنے کے بجائے ساحلی ریاست بھیج دیا، یہ وہ ریاست تھی جہاں عبداللہ شاہ غازی 4 سال تک ہندو مہاراجہ کے مہمان بنے رہے۔

خلیفہ المنصور نے عبداللہ شاہ غازی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جو کہ گورنر عمر بن حفض نے پورا نہیں کیا جس پر انہیں عہدے سے ہٹا کر نیا گورنر ہشام بن عمر کو لگایا۔ یہ بات 151 ہجری کی ہے، جب نئے گورنر نے بھی حضرت عبداللہ شاہ غازی کے خلاف کاروائی کرنے سے انکار کر دیا۔

ایک دن عبداللہ شاہ غازی شکار کی غرض سے جنگل میں تھے کہ تب ہی عباسی کے فوجی بھی وہاں پہنچ گئے، فوجی کی تلوار آپ کے سر مبارک پر لگی تھی، جس سے آپ شدید زخمی ہو کر زمین پر گر گئے تھے۔ چونکہ فوجی اس مقام سے بھاگ گئے تھے یہی وجہ تھی کہ جب آپ کے ساتھی وہاں پہنچے تو آپ کی شہادت ہو چکی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب کلفٹن کے آس پاس کا علاقہ جنگل اور ویران تھا، یہاں پہاڑ ہوتے تھے اور جنگلات۔ حضرت عبداللہ شاہ غازی کے ساتھی آپ کے جسد مبارک کو لیے جنگل سے ہوتے ہوئے اس مقام تک پہنچے جہاں آج ان کا مزار واقع ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US