وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کے دفاعی جہاز کامیابی سے آزمائے گئے جس کے بعد پاکستان کو اتنے بڑے دفاعی آرڈرز مل رہے ہیں کہ آئندہ چھ ماہ میں آئی ایم ایف کو خیرباد کہنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے مؤثر جواب کو پوری دنیا نے دیکھا اور اس کے بعد بھارت کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران بھارت نے امریکا اور چین سے رابطے کیے، تاہم پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت سے واضح برتری ثابت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ بھی بھارت نے جارحیت کی تو اسی نوعیت کا جواب دیا جائے گا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اور مستقبل میں ممکن ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی قابلِ اعتماد نہیں اور ان کے بھارت سے روابط ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے کچھ عناصر ٹی ٹی پی کو بھتہ دیتے ہیں۔
عالمی امور پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا کا موجودہ عالمی نظام کمزور ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر چین کو تائیوان سے نہ روکا گیا تو یوکرین جنگ کو بھی قانونی جواز مل جاتا ہے۔
ایران سے متعلق گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس سے پاکستان کے لیے چیلنجز پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے ماضی میں ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق مبالغہ آرائی کی، جسے حملے کا جواز بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔وزیر دفاع نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ واقعی انسانیت کا حامی ہے تو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف کارروائی کرے۔