بھارت ایک ایسی جمہوری ریاست ہے جہاں جمہوریت کا قتل عام سرعام ہو رہا ہے، جمہوریت میں ہر ایک کو جینے کی آزادی ہوتی ہے، مگر یہاں مسلم اور مسیحی ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
دراصل ہوا کچھ یوں کہ بھارتی ریاست کرناٹکہ کے ایک تعلیمی ادارے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہے جس میں ایک طالبہ کو دیکھا جا سکتا ہے جس نے برقع پہنا ہوا ہے۔
برقع پہنے مسکان نامی طالبہ ہاتھوں میں آرینج رنگ کے جھنڈے تھامے ہندو انتہا پسندوں کے آگے شیرنی کی طرح کھڑی تھی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی مسکان بائیک پارک کر کے تعلیمی ادارے کی عمارت کی جانب بڑھی تو کچھ لوگ جے شری رام کے نعرے لگانے لگے۔
پہلے تو مسکان نے ان آوارہ لڑکوں کے نعروں کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور آگے بڑھ گئی، طالبہ کی آنکھوں میں موجود بہادری کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔
لیکن جب معاملہ حد سے تجاوز کر گیا تو مسکان نے بھی باآواز بلند اللہ اکبر کی سدا بلند کی، جسے سن کر ہندو انتہا پسندوں کی ایسی صورتحال تھی جیسے کہ دال میں تڑکا لگتے وقت صورتحال ہوتی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے مسکان کو عمارت میں جانے کا کہا جا رہا تھا، البتہ انتہا پسند کھلے عام نعرے لگا رہے تھے۔
اس پوری صورتحال میں یوں معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے کہ آوارہ کتے راہ چلتے لوگوں پر بھونک رہے ہوں، یا یوں سمجھیں کہ ایک شیر اور کئی لکڑ بگھے۔
سوشل میڈیا پر مسکان کو خوب سراہا جا رہا ہے جس نے ان انتہا پسندوں کے آگے جھکنے سے انکار کیا اور دوسرے کے مذہب کی عزت کرتے ہوئے اپنے مذہب کو بھی جھکنے نہیں دیا۔