بھارت میں مسلم خواتین کو ہراساں کرنا اور حجاب پر پابندی لگانا کوئی نئی بات نہیں ہے مگر اب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ راہ چلتی مسلم خواتین کو بھی ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
کرناٹکا کی مسکان کے بعد ادوپی کے ایم جی ایم کالج میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ہے، لیکن باہمت طالبہ نے انتہا پسندوں کے آگے جھکنے سے صاف انکار کر دیا۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبہ انگریزی میں انتہا پسندوں کو مخاطب کر کے سماج کو کہہ رہی ہے کہ ہجوم ایک لڑکی پر چیخ رہا ہے، ہراساں کر رہا ہے جبکہ کوئی اس وقت سامنے نہیں آ رہا ہے۔
جبکہ اس دوران طالبہ کی جانب سے حجاب سے متعلق واضح کیا گیا کہ ہمیں حق ہے کہ ہم حجاب پہنیں۔
طالبہ کی جانب سے مقامی زبان میں بھی ان درندوں کو ان کا گھناؤنا چہرا دکھایا گیا۔ اس پوری ویڈیو میں یہی معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے کہ تنہا شیرنی جھنڈ میں آئے گیدڑوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔
مسلمان خواتین پر حملے کیوں بڑھ گئے:
بھارتی ریاست کرناٹکا کی جانب سے تمام تعلیمی اداروں میں ڈریس کوڈ متعارف کرایا گیا تھا جس کے تحت حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی ہے، بی جے پی کی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کرناٹکا میں بسنے والے 12 فیصد سے زائد مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
دوسری جانب کرناٹکا کے وزیر تعلیم بی سی نگیش کی جانب سے بھی حجاب پر پابندی کا دفاع کیا گیا ہے، اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ڈریس کوڈ عدالتی فیصلے کی روشنی میں لایا گیا ہے۔