“میں نے اپنی بیٹی کو بارات لے کر جانے کی اجازت اس لئے دی کیوں کہ میں چاہتا تھا کہ لڑکوں کی برتری کا تصور تبدیل ہو“
یہ الفاظ ہیں ایک ایسے باپ کے جس کی بیٹی خود گھوڑے پر سوار ہو کر بارات لے کر اپنی شادی میں گئی۔ انڈیا اور پاکستان کے رواج کے مطابق دولہا اور اس کے گھر والے گھوڑے پر بارات لے کر دلہن کے گھر جاتے ہیں جہاں دلہن کے گھر والے ان کا استقبال کرتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں۔ واپس جاتے ہوئے بارات اپنے ساتھ دلہن کو بھی لے جاتی ہے۔
لیکن پریا نے اس رواج کو چیلنج کرتے ہوئے روایت بدل ڈالی اور اپنی شادی کے دن خود گھوڑے پر بیٹھ کر دلہا کے گھر گئیں۔ پریا کا کہنا تھا کہ وہ شروع سے لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان امتیازی فرق کے خلاف ہیں اور لڑکوں کی برتری کے تصور کو بدلنا چاہتی تھیں۔ اس کے لئے انھیں اپنے والد کے ساتھ ہونے والے دلہا اور ان کے گھر والوں کی بھی پوری حمایت حاصل تھی۔