آنکھوں کو دھوکہ دینے والی تصویریں ۔۔ تیز نظر رکھنے والے افراد بھی ان تصاویر کی حقیقت نہیں جان پائیں گے

image

سوشل میڈیا آج اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ لوگ مشہور ہونے کے لیے مختلف اقسام کی پوسٹ شئیر کرتے ہیں جو دیکھنے والے کے لیے دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔

اُن میں کچھ ایسی تصویریں بھی زیر گردش رہتی ہیں جوایک بار دیکھنے میں سمجھ نہیں آتیں بلکہ وہ تصویریں دوسری بار بھی توجہ مانگتی ہیں۔ مختصراً وہ تصویریں انسانی آنکھوں کو دھوکہ دے رہی ہوتی ہیں۔

Hamariweb.com کچھ ایسی ہی تصویریں اپنے صارفین کے لیے لے کر حاضر ہوئی ہے جو دیکھنے والوں کے دماغ کو چکرا کر رکھ دیں گی۔

1- یہ بلی ہے یا پھر گائے؟

اس تصویر کو پہلی بار دیکھنے میں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی گائے کھڑی ہو۔ فوٹو کھینچنے والے کا کمال یہ ہے کہ اس نے بالکل عین اس موقع پر کیپچر کی ہے جس میں گائے کا صرف دھڑ نظر آرہا ہے اور اسکرین کے پیچھے سے بلی نے اپنا چہرہ نکالا ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ تصویر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

2- بچے کا سر کہاں گیا؟

اوپر موجود تصویر دماغ کو دھوکہ دے رہی ہے۔ لیکن اس کی حقیقت ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ یہاں بیٹا اپنے والد سے پیچھے سے گلے لگا ہوا ہے اور چہرہ دوسری سمت میں ہے۔ پہلی نظر میں اس تصویر نے سب ہی کو حیران کر ڈالا۔

3- ٹانگوں والا پرندہ

اب یہ ایک اور تصویر جو دھوکہ دے رہی ہے جسے سمجھنے میں وقت لگ رہا ہے۔ ایک گھوڑا جو گھاس کھا رہا ہے اور اس کے آگے ایک پرندہ موجود ہے۔ تصویر دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے پرندے کی ٹانگیں نکل آئیں ہوں۔ لیکن دراصل وہ کھوڑے کی ہی ٹانگیں ہیں جبکہ پرندہ ایک نیٹ پر بیٹھا ہے۔

4- باتھ روم کارپیٹ

بلی اور باتھ روم کے میٹ کا رنگ اتنا میچ کر رہا ہے کہ اگر کسی کی نظر نہ پڑے تو وہ اس پر چڑھ ہی جائے۔ جی ہاں! اس چمکدار سفید میٹ کے اوپر ایک سفید بلی لیٹی ہوئی ہے جو پہلی بار دیکھنے میں تو نظر ہی نہیں آئی۔

5- چشمے میں آنکھیں یا کچھ اور؟

ایک چسمپ رکھا ہوا جس میں آپ آنکھیں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کچھ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس چشمے پر آنکھیں بنا دی گئی ہوں۔ لیکن ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ نہ تو وہ آنکھیں ہیں نا ہی کسی نے پینسل سے بنائی ہیں بلکہ چشمہ لیمپ کے نیچے رکھا ہے جس کا عکس اس پر نظر آرہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US