11 سالوں میں 17 ہزار لاشیں دفن کیں جن کو پوچھنے کوئی نہ آیا ۔۔ لاوارث لاشوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ مگر کیوں؟

image

اپنا پیارا کوئی ہم سے بچھڑ جائے تو ہماری بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ اس کی تدفین کرنے کے بعد جب جب موقع ملتا ہے اس کی قبر پر جاتے ہیں پانی وغیرہ ڈالتے ہیں، قبر کی صاف صفائی کر دیتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جن کے مرنے کے بعد ان کے گھر والوں نے ان کی موت کے بعد ان کو پوچھا تک نہیں جس کی وجہ سے کراچی جیسے بڑے شہر میں لاوارث لاشوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ میں فیصل ایدھی بات کرتے ہوئے بتاتےہیں کہ ہم نے 11 سالوں میں 17 ہزار لاشیں دفن کی ہیں جن کا کوئی وارث آج تک نہ آیا اور نہ کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ ان کا اپنا کس حال میں ہے۔ بہت کم ہی ایسی لاشیں ہم نے دیکھی ہیں جن کو کوئی پوچھنے والا آتا ہے ورنہ سالوں سے سرد خانوں میں ایسی لاشیں پڑی تھیں جن کو کوئی دیکھنے والا نہیں۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی تفتیش کے لیے جاتا ہے کہ تو پولیس کی مدد سے ایک سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو مکمل رپورٹ کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ کس شخص کی قبر کون سی ہے۔

ہمارے پاس قبرستان میں جگہ کم پڑ رہی ہے اس لیے اب یہاں موجود درختوں کو چھوٹے پیڑوں کو کاٹ کر جگہ بنا رہے ہیں تاکہ مزید لاوارث لاشوں کے دفن کے لیے جگہ بن سکے۔ ایدھی فاونڈیشن کے مطابق کراچی میں لاوارث میتوں کی تعداد 91 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ کراچی میں ایک قبرستان ایسا بھی ہے جہاں قبر کے کتبوں پر میتوں کی شناخت، نام نہیں بلکہ اعداد ہیں۔ اس قبرستان میں غیرملکی دہشتگردوں سے لے کر پولیس مقابلے میں مارے جانے والوں تک کچھ ایسی میتیں دفن ہیں جنہیں اپنانے کوئی نہیں آیا۔ اور یہ میتیں آج یا کل یا پھر ایک یا دو سالوں کی نہیں بلکہ 11 سال پہلے کی بھی ہیں۔

یہ وہ لاوارث میتیں ہیں جو کبھی سڑک سے اٹھائی گئیں، تو کبھی گھروں میں اکیلی پڑی ہوئی ملیں تو کئی لاشوں کو پولیس کی جانب سے ہمیں دیا گیا۔ اگر ان لاشوں کو فلاحی ادارے نہ اٹھاتے تو کوئی دوسرا اٹھانے والا بھی نہ ہوتا۔ پتہ نہیں یہ کون لوگ ہیں کہاں سے آئے ہیں آج تک ان کی خبر کسی نے نہ لی۔ ہم خود ان کی اپنے طور سے نماز جنازہ ادا کر دیتے ہیں لیکن ہمیں بھی ان کے ورثاء کی خبر نہیں ہے۔ یہ قبرستان مواچھ گوٹھ میں واقع ہے۔ ان کا جنازہ قبرستان میں ہی ادا کیا جاتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US