8 لوگ اٹھا کر لائے، میرا بچنا مشکل تھا ۔۔ جانیے ان مشہور شخصیات کے بارے میں، جن کی موٹاپے نے زندگی مشکل بنا دی تھی

image

مشہور شخصیات اکثر اپنے دلچسپ انداز کی بدولت جانی جاتی ہیں، کوئی اپنی اداکاری کی وجہ سے جانا جاتا ہے تو گلوکاری کی وجہ سے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

نصرت فتح علی خان:

بھارتی ٹی وی شو میں اداکار اجے دیوگن نے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔

اجے دیوگن کی جانب سے بتایا گیا کہ مجھے یاد ہے نصرت صاحب میری فلم کچے دھاگے کے لیے پاکستان سے بھارت گانے بنانے کے لیے آئے تھے۔ موسیقار آنند بخشی اور نصرت فتح علی خان اجے دیوگن کی فلم کے لیے ساتھ ہی گانا لکھ رہے تھے۔

اس حوالے سے دونوں کو مل کر ایک جگہ بیٹھ کر کام کرنا تھا جس کے لیے نصرت فتح علی خان نے آنند بخشی کو اپنی رہائش گاہ بلا لیا جہاں وہ بھارت میں رُکے ہوئے تھے۔

اجے دیوگن نے بتایا کہ بخشی صاحب کو یہ بات ناگوار گزری اور انہیں لگا کہ نصرت صاحب میں انا پرستی ہے۔ لیکن بخشی صاحب کو نہیں معلوم تھا کہ نصرت صاحب کا وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ چل نہیں پاتے تھے۔

اجے دیوگن نے بتایا کہ بخشی صاحب گانا لکھ کر بھیجتے تو نصرت صاحب کو وہ پسند نہیں آتا اور وہ واپس بھیج دیتے، اور جب نصرت صاحب گانے کی دُھن بھیجتے تو بخشی صاحب کو وہ پسند نہیں آتی۔ یہ صورتحال کچھ دن تک چلی۔

آخر کار نصرت صاحب نے کہا کہ مجھے اٹھا کر بخشی صاحب کے گھر لے چلو۔ چونکہ بخشی صاحب اس وقت پہلے فلور پر رہ رہے تھے۔ اسی لیے جب 8 بندے نصرت صاحب کو اٹھا کر ان کے گھر پہنچے تو آنند بخشی صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

آںند بخشی نصرت فتح علی خان کو اس طرح دیکھ کر شرمندہ تھے، انہوں نے کہا کہ میری سوچ کتنی بکواس تھی، آپ واپس اپنے گھرچلیے اب میں آپ کے گھر جاؤں گا اور وہیں پر گانا بناؤں گا۔

آںند بخشی نصرت فتح علی خان کی اس نرم دلی پر ایسے مر مٹے تھے کہ ان کی آنکھوں میں آنسوں اور ان کے دل میں نصرت فتح علی خان کے لیے محبت اور عزت مزید بڑھ گئی تھی۔

عدنان سمیع:

عدنان سمیع پاکستان اور بھارت میں ایک مشہور گلوکار کے طور پر جانے جاتے ہیں، لیکن عدنان سمیع پر بھی ایک وقت ایسا تھا جب وہ موٹاپے سے پریشان تھے۔ گلوکار اس حد تک موٹاپے کا شکار ہو گئے کہ ان کے چہرے اور گردن سمیت پورے جسم پر اثرات واضح طور پر آنا شروع ہو گئے تھے۔

غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عدنان سمیع کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ موٹے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس دل نہیں ہے، موٹے جسم کےساتھ میں اسکرین پر آیا اور لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی جبکہ کوئی دوسرا شاید ایسا نہیں کر پاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھےاپنے موٹاپے کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کیونکہ اس کے باعث لوگ مجھے اس طرح سے پسند نہیں کرتے جس طرح سے پسند کیا جانا چائیے۔ ‘

عدنان سمیع کو سانس لینے میں مشکل کا سامنا تھا جبکہ موٹاپے کی وجہ سے ڈاکٹرز نے انہیں یہ تک کہہ دیا تھا کہ آپ چھ ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔

قائد ایم کیو ایم:

ایم کیو ایم کے قائد بھی اس حد تک موٹاپے کا شکار ہو گئے تھے کہ انہیں چلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ جب کبھی چلتے تو ٹھہر ٹھہر کر چلتے تھے۔

بانی ایم کیو ایم اپنی جوانی کے دور میں صحت مند تھے مگر لندن جا کر بانی ایم کیو ایم اس حد تک موٹاپے کا شکار ہو گئے کہ کھڑے تک نہیں ہو سکتے تھے، جب کبھی پریس کانفرنس کرتے تو بیٹھ کر ہی کرتے تھے۔

لیکن گزشتہ چند سالوں سے وہ بھی اپنے موٹاپے پر قابو پاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید انہوں نے بھی ڈائیٹ شروع کر دی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US