اپنی گاڑی روک کر جنازے میں شرکت کی ۔۔ جانیے پاکستان کی تاریخ کے ان سب سے بڑے جنازوں کی کیا خاص بات تھی؟

image

پاکستان میں ایسے کئی لمحات آئے ہیں جب کچھ ایسے مناظر دیکھنے کو ملے جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی، پاکستان کی تاریخ میں کچھ ایسے جنازے بھی گزرے ہیں جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

محمد علی جناح:

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا شمار ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جو کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنا ایک مقام رکھتے تھے۔ قائد اعظم کی حاضر دماغی اور انسانیت کے پیغام نے سب کی توجہ حاصل کرلی تھی۔

جس طرح جلسوں میں عوام قائد اعظم کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے موجود ہوتی تھی اسی طرح قائد کےجنازے میں شرکت کے لیے اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے عوام کا جم غفیر امڈ آیا تھا۔ کوئی ایسی سڑک نہیں تھی جہاں لوگوں موجود نہ تھے۔

آنکھوں میں آنسوں اور چہرے پر ایک ایسی افسردگی کا عالم تھا جیسے کہ گھر کا کوئی سربراہ ہم سے بچھڑ گیا ہو۔

قائد اعظم کی ہمشیرہ اور مادر ملت فاطمہ جناح بھائی کی وفات پر اشکبار تھیں جنہیں دیگر خواتین ممبران سنبھالے ہوئے تھیں۔ بھائی کی وفات پر فاطمہ جناح ٹوٹ کر رہ گئی تھیں، لیکن ہمت اور حوصلہ بھی بھائی ہی بنے تھے۔

جنرل ضیاء الحق:

جنرل ضیاء الحق کا شمار بھی پاکستان کی ان شخصیات میں ہوتا ہے جو کہ مذہبی طور پر پاکستان کو آگے لے کر بڑھ رہے تھے، دنیا بھر میں بھی جنرل ضیاء اپنے سخت قوانین کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔

جنرل ضیاء کے ساتھ ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا تھا جب وہ اسلام آباد جا رہے تھے تو راستے میں انہیں ایک جنازہ دکھائی دیا، پروٹوکل میں موجود گاڑیوں نے سائرن بجانا شروع کر دیا۔

لیکن سب اس وقت حیران رہ گئے جب جنرل ضیاء خود گاڑی سے اتر کر جنازے کو کندھا دینے لگے۔ اس واقعے نے عوام کے دلوں میں جنرل ضیاء کے لیے مزید محبت پیدا کر دی تھی۔ جس طرح جنرل ضیاء گاڑی روک کر جنازے میں شریک ہونے آئے اسی طرح خود ان کے جنازے میں چاہنے والوں اور شہریوں کی جانب سے اسی طرح شرکت کی گئی۔

کوئی اپنا کام چھوڑ کر جنازے میں آیا، تو کوئی اپنے بچوں کو بھی جنازے میں لایا۔

فاطمہ جناح:

پاکستان کی پہلی خاتون جنہیں ہر طرح سے عوام کی جانب سے سپورٹ ملا، مادر ملت فاطمہ جناح پاکستان کی وہ خاتون تھیں جنہوں نے پاکستانی خواتین کے لیے ایک ایسی راہ ہموار کی تھی جو کہ مشکل تھی جس پر فاطمہ جناح نے خود چل کر ایک مثال بنائی۔

محترمہ فاطمہ جناح اگرچہ پاکستانیوں سے بے حد پیار کرتی تھیں مگر سب سے عزیز بھائی کے انتقال کے وقت وہ بھی اشکبار ہو گئی تھیں۔ محترمہ فاطمہ جناح کے جنازے میں بھی پاکستانیوں نے اس طرح شرکت کی جیسے کہ کوئی اپنا گیا ہو، ظاہر ہے لیڈر بھی کچھ ایسی ہی تھیں کہ عوام کو اپنوں سے زیادہ قریب رکھتی تھیں۔

لیکن یہ بات بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ محترمہ کی خواہش تھی کہ انہیں ان کے بھائی کے برابر میں دفن کیا جائے مگر اس وقت کی حکومت بضد تھی کہ انہیں میوہ شاہ قبرستان میں دفنایا جائے، عوامی ردعمل کے پیش نظر حکومت نے رات ہی میں نوٹیفکیشن نکالا جس میں محترمہ کی تدفین قائد اعظم کے برابر میں کی جانے کا اعلان کیا گیا۔

جہاں جہاں سے محترمہ کا جنازہ گزرا لوگوں کی جانب سے انہیں اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا، جنازہ جلوس کی شکل اختیار کر گیا تھا۔

عبدالستار ایدھی:

پاکستان میں انسانیت کا جب جب ذکر کیا جاتا ہے تو ایک مسیحا کو ہمیشہ یاد کیا جاتا ہے جو کہ اپنے جانے کے بعد بھی زندہ ہیں۔ صرف ایک ایمبولینس سے لوگوں کی خدمت کا عزم لیے کراچی میں کام کرنے والے عبدالستار ایدھی نے دنیا بھر کو حیران کر دیا تھا۔

خود کھانا کھایا ہو یا نہیں مگر دوسروں کی فکر ہر وقت ہوتی تھی، ایدھی صاحب کے چہرے پر ہر وقت ایک ایسی پریشانی جو کہ دوسروں کے دکھ اور درد کو بیان کر رہی ہوتی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ آخری وقت میں بھی ایدھی صاحب نے اپنے جسم کے تمام اعضاء عطیہ کرنے کا اعلان کیا تھا، ایدھی صاحب کا جنازہ نیشنل اسٹیڈیم میں لایا گیا تھا جہاں نماز جنازہ ادا کی گئی۔

جنازے کو مکمل سرکاری اعزاز اور خراج تحسین پیش کیا گیا تھا، جہاں جہاں سے جنازہ گزرا جنازے پر پھول کی پتیان نچھاور کر کے خراج تحسین پیش کیا گیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US