دلہن کی خواہش پر خاتون نے نکاح پڑھایا ۔۔ ایک ایسی انوکھی شادی جس میں نکاح مرد کی جگہ عورت نے پڑھایا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

image

شادی کی تمام تقریبات میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل نکاح ہے۔ نکاح کے دو بول زندگی بھر یاد رہ جاتے ہیں۔ آج تک جس کسی کی بھی شادی ہوئی ہم نے یہی دیکھا اور سنا کہ قاضی صاحب نے نکاح پڑھایا۔ نکاح خوان زیادہ تر مرد حضرات ہی ہوتے ہیں جن کو باقاعدہ اس کام کے لیے دعوت دے کر بلایا جاتا ہے ۔ لیکن بھارت میں ایک ایسی شادی بھی انجام پائی جہاں نکاح مرد نے نہیں بلکہ کسی خاتون نے پڑھایا۔

بھارت کے تیسرے صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کے گھر پر ان کے پڑ نواسے کا نکاح خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید نے پڑھایا۔ جبران ریحان رحمٰن جوکہ ڈاکٹر ذاکر کے پڑ نواسے ہیں ان کا نکاح ارسلا علی سے پڑھوایا جوکہ سینیئر صحافی قربان علی کی بیٹی ہیں۔ نکاح کی تقریب میں قریبی دوست احباب نے شرکت کی۔

اس نکاح کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید ایک خاتون نے قاضی کی حیثیت سے خطبہ نکاح پڑھایا اور عقد نکاح کی دیگر رسومات انجام دیں۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ لڑکا لڑکی دونوں کا نکاح پڑھا رہی ہیں اور ان کا حق مہر معجل بتا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعا بھی کروائی۔ میڈیا تفصیلات کے مطابق خاتون نے یہ نکاح دلہن ارسلہ کی خواہش کے مطابق پڑھایا اور ڈاکٹر سیدہ نے یہ کوئی پہلا نکاح نہیں پڑھایا بلکہ اس سے قبل وہ بھارت میں کئی نکاح پڑھا چکی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کہتی ہیں کہ: '' میں نے اپنی مرضی سے کبھی نہیں پڑھایا ہمیں لوگوںکے اسرار پر نکاح پڑھائے ہیں۔ میرے ایک عورت کے نکاح پڑھانے سے کسی بھی قاضی کی 2 وقت کی روٹی نہیں ختم ہوگی۔ اسلام سب سے آسان مذہب ہے۔ یہاں سب کچھ بہت آسان ہے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام ہم سے کیا کہتا ہے۔ عورتوں کو آذادی 14 سو سال قبل ملی تھی جس کی کچھ شرائط ہیں۔ نکاح مرد ہی پڑھائے گا یہ کہیں نہیں لکھا ہوا۔''

1943 میں جموں و کشمیر میں جنم لینے والی ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید بھارت کے معروف ماہر تعلیم اور مصنف مرحوم خواجہ غلام السیدین کی بیٹی ہیں۔ وہ بھارت میں منصوبہ بندی کمیشن کی رکن اور حیدرآباد دکن کی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر کے عہدے پر تعینات رہ چکی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنف ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US