سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز اور تصاویر دیکھی ہوں گی جس میں کچھ ایسی معلومات دی جاتی ہیں جو انسان کو جذباتی کر دیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسی ہی اسٹوری کے بارے میں بتائیں گے۔
عام طور پر پنجاب پولیس کے بارے میں سوشل میڈیا پر منفی خبریں ہی سامنے آتی ہیں جس میں جعلی مقابلوں سے لے کر غیر انسانی سلوک شامل ہیں، لیکن اس سب میں جہاں برائی کو پھیلایا جا رہا ہے وہیں کچھ ایسے کام بھی ہیں جو کہ پنجاب پولیس کی پہچان بنتے جا رہے ہیں۔
پنجاب پولیس کے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ اپلوڈ کی گئی جس میں ایک شادی کی تقریب کی تصاویر کو دیکھا جا سکتا ہے، یہ تصویر کسی اور کی نہیں بلکہ شہید پولیس کانسٹیبل کی بیٹی کی ہیں۔
ہیڈ کانسٹیبل مشتاق احمد نے 1996 میں ڈکیتی کے دوران ڈکیتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا، اس تقریب کے موقعے پر ایس پی کینٹ کی جانب سے بھی شرکت کی گئی اور دلہا اور دلہن کو تحائف بھی دیے گئے جبکہ دلہن کے سر پر شفقت کا ہاتھ بھی رکھا۔
تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پنجاب پولیس کے جوان بطور لڑکی والے باراتیوں کا استقبال کر رہے ہیں، جبکہ فی میل پولیس اہلکار بھی استقبال کے لیے موجود ہیں۔