وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کے بعد پاکستان کی سیاست میں ان دنوں ایک درجہ حرارت اپنے نقطہ عروج کو چھو رہا ہے۔
ملک میں سیاسی جوڑ توڑ اور بھاؤ تاؤ میں بھی تیزی دیکھنے میں آرہی ہے اور اتحادی حکومتی کشتی کو ڈوبتا دیکھ کر چھلانگ لگانے کیلئے تیار دکھائی دے رہے ہیں۔
وزیراعظم کی اتحادیوں سے ملاقاتوں کے باوجود اتحادی حکومت سے نالاں دکھائی دیتے ہیں اور حال ہی میں اہم اتحادی جماعت ق لیگ کے مرکزی رہنماء و اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کہا تھا وزارت اعلیٰ پنجاب دیں، پھر آپ کے لیے بھی ووٹ کر لیں گے، اگر وزارت اعلیٰ ملی تو ہم اتحادیوں کی کمیاں خامیاں بھی پوری کریں گے۔
اب اگر مسلم لیگ ق اور چوہدری برادران کی سیاست پر ایک نظرڈالیں تو پاکستان مسلم لیگ ق یا ق لیگ کا قیام 2001 میں اس وقت عمل میں آیا جب وقت مسلم لیگ بہت سے دھڑوں میں بٹ چکی تھی، جن میں سے ق لیگ کو سب سے کم عوامی حمایت حاصل تھی۔
تاہم اس وقت کے حکمران جنرل پرویز مشرف کی آشیر باد سے چوہدری شجاعت حسین نے مختلف جماعتوں سے نامور سیاستدانوں کو جمع کرکے ق لیگ بنائی لیکن یہ غیر فطری اتحاد وقت کے ساتھ تنکوں کی طرح بکھر گیا۔
چوہدری پرویز الٰہی کی بات کی جائے تو چوہدری شجاعت حسین کے چچا زاد بھائی چوہدری پرویز الٰہی پرویز مشرف کے دور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائزرہے ہیں اور ق لیگ حکومت ختم ہونے کے بعد دیرینہ مخالف پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد میں پرویز الٰہی پاکستان کے پہلے نائب وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں۔
قومی اسمبلی میں پانچ اورپنجاب اسمبلی میں 10سیٹوں پر براجمان مسلم لیگ ق پاکستان تحریک انصاف کے پاس عددی برتری نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب میں اسپیکر اور وفاق میں بھی وزارتوں کے مزے لے رہی ہے تاہم حکومت کیخلاف جاری مہم میں عین ممکن ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے عوض ق لیگ پاکستان تحریک انصاف کو بیچ منجدھار چھوڑ جائیگی۔