میری بہن سعودیہ میں پیدا ہوئی لیکن میں پشاور میں۔۔ دنانیر مبین نے اپنی نجی زندگی کے بارے میں کیا دلچسپ باتیں بتائیں؟

image

میری 4 خالائیں ہیں لیکن میری سب سے پسندیدہ خالہ “چڑیا خالہ“ ہیں۔ میں بالکل اپنی امی کی طرح ہوں۔

یہ الفاظ ہیں پاورری گرل اور اب صنف آہن کی سدرہ بتول کے کردار سے مشہور ہونے والی دنانیر مبین کے۔ گزشتہ دنوں اے آر وائی کے مارننگ شو میں انٹرویو کے دوران دنانیر نے اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ شرکت کی جہاں انھوں نے اپنے بچپن اور نجی زندگی کے حوالے سے کئی باتیں کیں جو ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے یہاں پیش کررہے ہیں۔

دنانیر ننھیال میں بہت لاڈلی ہیں

دنانیر کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے بچے کیسے پل کے بڑے ہوگئے انھیں زیادہ پتہ اس لئے نہیں چلا کیوں کہ بچوں کی خالاؤں اور ماموں نے ان کا بہت خیال رکھا۔ دنانیر کی بہن جن کا پیار کا نام ڈونا ہے وہ سعودیہ میں پیدا ہوئیں جبکہ دنانیر پشاور کی پیدائش ہیں اس لحاظ سے وہ اپنے ننھیال میں پہلی بچی تھیں اور اسی لئے انھیں بہت زیادہ لاڈ پیار ملا۔

بچپن میں کھانا پکانے کا بہت شوق تھا

دنانیر نے کہا کہ میں بہت چھوٹی تھی تب سے مجھے چائے بنانے اور کھانا پکانے کا شوق تھا۔ جب آنی (خالہ) باورچی خانے جاتی تھیں تو مجھے گود میں لےکر جاتی تھیں اور مجھے بتاتی تھیں کہ ایسے چائے بنائی جاتی ہے اسی طرح نانو بھی کچن میں لے جاتی تھیں اور کھانے کے مصالحے بتاتی تھیں اس لئے مجھے آلو کی بھجیا بنانی بھی آگئی تھی۔ میں دیگچی میں پانی ابال کر اس میں پیاز اور نمک اور جو جو سمجھ آتا تھا ڈال دیتی تھی اور گھر میں وہ سب کو کھانا پڑتا تھا۔

تیل کے ڈبے پر گر گئی تھیں

اسی طرح بچپن کا ایک واقعہ سناتے ہوئے دنانیر نے بتایا کہ وہ کافی شرارتی تھیں اور گھر میں ایک پارٹی کے موقع پر انھوں نے را سلک کا فراک پہنا تھا اور اس کو پہن کر وہ کچھ کے سلیب پر چڑھ گئیں اور جب چھلانگ مار کر اتریں تو سامنے پڑا 5 کلو کے تیل کے ڈبے سے ٹکرا گئیں اور گر کر سارے تیل میں لت پت ہوگئیں۔ دنانیر کا کہنا ہے کہ سزا کے طور پر ان کی والدہ نے انھیں نہانے یا کپڑے تبدیل نہیں کرنے دیے اور اسی حالت میں دنانیر نے پارٹی اٹینڈ کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US