سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف اپنی نجی زندگی میں بلکہ سیاسی زندگی میں بھی اصول پرست انسان تھے، آج پاکستان کی سیاست میں انہیں یاد کیا جاتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالقفار علی بھٹو کا شمار ان چند عالمی رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے پُر جوش انداز کی وجہ سے سب کی توجہ حاصل کی۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ذوالفقار علی بھٹو نے بطور حکومتی رہنما اقوام متحدہ کی اسمبلی میں پاکستان کا مقدمہ رکھا تھا، ہمت اور حوصلے، بہادری کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کی اس کی قیمت بھی چکانا پڑی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان ایک عظیم لیڈر سے محروم ہو گیا۔
اگرچہ سابق وزیر خارجہ اور پیپلر پارٹی کے فاؤنڈر نے ملکی اور بین الاقوامی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر انہیں جس طرح سزا دی گئی، اس کی مثال کہیں نہیں ملتی ہے۔
لیکن ان سب میں ذوالفقار علی بھٹو پر مجیب الرحمٰن کے ساتھ مسائل کو حل نہ کرنے کا الزام بھی لگتا رہا ہے، ساتھ ہی بنگلادیش کے بننے کی ایک بڑی وجہ سابق وزیر اعظم کو قرار دیا جاتا ہے۔
اس تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ سابق وزیر اعظم کو جب پھانسی دی گئی تو ان کی نماز جنازہ بھی جیل کے اندر ادا کی گئی تھی۔
عوامی نمائندے کے نام سے شہرت پانے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے خاندان کو بھی سیاست کے آگے ترجیح نہیں دی، یہی وجہ تھی کہ آخری وقت میں بھی جب اہلیہ نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو سے ان کی ملاقات کرائی گئی تو سابق وزیر اعظم نے بیٹی کو نہ صرف ہمت اور حوصلے کا مشورہ دیا بلکہ اپنی آخری خواہش کا بھی اظہار کیا۔
بے نظیر اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو سے آخری ملاقات سے متعلق کہتی تھیں کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ آپ والد سے بات کرلیں، ہمیں یہ بالکل نہیں بتایاگیا تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ بےنظیر کا کہنا تھا کہ جب ہمیں لے جایا گیا تو ہم سمجھ گئے تھے کہ یہ ہماری والد سے آخری ملاقات ہے مگرجب پوچھا تو حوالدار نے کہا کہ ہو سکتا کہ آخری ملاقات ہو اور ہو سکتا ہے کہ آخری ملاقات نہ ہو۔
بے نظیر اپنی آخری ملاقات کو یاد کرتے ہوئے رو پڑیں اور کہا کہ اس آخری ملاقات میں میں نے والد کو پیار سے دیکھا، انہیں گلے لگایا، وہ بہت ہی پُر سکون تھے۔ ہم نے پارٹی معامللات اور گھر کے معاملات پر بات چیت کری۔ بے نظیر کا کہنا تھا کہ جیل میں موجود لوگوں نے آخری بار مجھے اپنے والد کے ہاتھ بھی نہیں چومنے دیے اور خدا حافظ تک نہیں کہنے دیا تھا۔
اس سب میں بے نظٰیر اور نصرت بھٹو بھی حیرت زدہ تھیں کہ ذوالفقار علی بھٹو موت کو قریب دیکھ کر بھی اتنا مطمئن کیسے ہیں۔