پاکستانی افطار بغیر پکوڑوں کے ادھورا ہوتا ہے۔ خستہ خستہ نمکین پکوڑے مزیدار کھٹی میٹھی چٹنی سے کھانے کا لطف ہی الگ ہے اسی وجہ سے تقریباً ہم سب کے ہاں ہی افطار میں روزانہ پکوڑوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ ہماری صحت کے لئے اچھا ہے؟ آج ہم جانیں گے اپنے آرٹیکل میں کہ بظاہر اس بے ضرر سے شوق سے ہم کون سی بڑی بیماریوں کو دعوت دے رہے ہیں۔
روزانہ تلی ہوئی چیزیں کھانا ٹھیک نہیں
ماہرین کے مطابق اگرچہ بیسن اور چنے کا استعمال صحت کے لئے اچھا ہے لیکن پکوڑے چونکہ بہت زیادہ تلے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے ان کو روز کھانا ٹھیک نہیں۔ ڈیپ فرائی ہوئے پکوڑے بلڈ پریشر بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔
بیسن میں یہ چیز نہ ملائیں
نرم پکوڑے بنانے کے لئے ہمارے ہاں بیسن گھولتے ہوئے تھوڑی مقدار میں میٹھا سوڈا بھی اکثر ملایا جاتا ہے جس کا کیمائی نام سوڈیم بائی کاربونیٹ ہے۔ یہ سوڈا منہ میں ناگوار بو پیدا کرنے کے علاوہ معدے میں درد، جلن، الٹی اور تیزابیت کا باعث بھی بنتا ہے۔ چونکہ بیسن میں سوڈا شامل کرنے کے بعد اسے تیل میں بھی تلا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ کافی نقصان دہ بن جاتا ہے نہ صر بلڈ پریشر بلکہ یہ دل کی بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ عام طور پر لوگ اس بارے میں یہی کہتے ہیں کہ زرا سا سوڈا ملانے سے کچھ نہیں ہوتا لیکن یہی زرا سی چیز سارا دن خالی پیٹ رہنے کے بعد روزانہ کھائی جائے تو اس کے نقصانات ضرور سامنے آتے ہیں اسی لئے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ افطار میں تلی ہوئی چیزوں کا استعمال کم سے کم یا پھر ایک دن چھوڑ کر کریں۔