پاکستان کی جانی مانی نیوز اینکر رابعہ انعم جو آج کل نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں مصروف ہیں، پروگرام کے ایک سیگمنٹ کے دوران روڈ حادثے میں جاں بحق ہونے والے اپنے کزن کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔
صحافت کے شعبے سے وابستہ رابعہ انعم رمضان ٹرانسمیشن کے 'نیکی کے سیگمنٹ' میں ایک نوجوان کا تذکرہ کرتی ہیں جس کا حال ہی میں ایکسیڈنینٹ ہوا۔ نوجوان رات کو پیٹرول بھروا کر سحری کے لیے گھر جا رہے تھا جسے ایک تیز رفتار کار والے نے ٹکر ماری اور وہ شدید زخمی حالت میں وہیں پڑا رہا۔ کار والا نوجوان کو ٹکر مار کر موقع پر فرار ہوگیا۔
رابعہ نے بتایا کہ 22 سالہ عبدالودود کو لوگوں نے اُٹھایا اور اسے فوراً سول اور جناح اسپتال لے کر بھاگے لیکن دونوں اسپتالوں نے عبدالودود کو ایڈمٹ کرنے سے انکار کردیا۔
بعدازاں رابعہ انعم نے بتایا کہ لڑکے کا تعلق متوسط گھرانے سے ہے جسے آغا خان اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ لے جایا گیا جس کی تصویر بھی انہوں نے دکھائی۔ پروگرام میزبان نے بتایا کہ اس لڑکے کے اہلخانہ بہت پریشان ہیں اور میرے دل میں جو اس وقت جذبات ہیں وہ میں آپ سے شئیر نہیں کرسکتی۔ آغا خان اسپتال نے لڑکے کے علاج کے لیے 30 لاکھ روپے مانگے ہیں۔
رابعہ انعم نے پروگرام دیکھنے والوں اور بیرونی ممالک مقیم لوگوں سے عبدالودود کے لیے امداد کی اپیل کی۔ رابعہ عبدالودود کے لیے اپنے چینل کے ذریعے امداد کی اپیل کر ہی رہیں تھیں کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک عمر لگتی ہے بچے کو جوان ہونے میں، اور آپ گاڑی سے مار کر وہاں سے چلے گئے۔ آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ اس کی فیملی پر اس وقت کیا گزر رہی ہے۔
انہوں نے آگے بتایا کہ اسی عمر میں میری پھوپھو کے بڑے بیٹے چند سال قبل کار حادثے کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ وہ میرے بھائی کے ساتھ روڈ پار کر رہے تھے۔ رابعہ نے بتایا کہ میرے بھائی کزن سے ایک قدم پیچھے تھے اور وہ ایک قدم آگے تھے جنہیں گاڑی والے نے ہِٹ کیا اور وہ اسی وقت اس دنیا سے چلے گئے۔
ویڈیو دیکھیں۔