سیاسی صورتحال کے پیش نظر ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی باقاعدہ طور پر بیان سامنے آ گیا ہے، میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے جمعرات کے روز پریس کانفرنس کی گئی ہے۔
سیاسی گہما گہمی میں عروج پر ہے وہیں سوشل میڈیا پر آرمی کو بھی مبینہ طور پر سیاست میں دخل دینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائر ہوں گے۔ آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع نہ چاہیے نہ وہ لیں گے۔
جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے ڈی جی آئی ایس آئی اور آرمی چیف کی 9 اپریل کی ملاقات کی بھی تردید کی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جب روس گئے تو تمام ادارے آن بورڈ تھے۔
پاکستانی فوج سے متعلق منفی پروپیگنڈے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر مہم کن لوگوں چلائی، محرکات تک پہنچ گئے ہیں۔ مہم میں بیرون ملک لوگوں کے ملوث ہونے کے بھی شواہد ملے ہیں۔
صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آرمی چیف نے وزیر اعظم کی حلف برداری میں شرکت نہیں کی جس پر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ اس دن آرمی چیف کی طبیعت خراب تھی، اسی وجہ سے وہ شرکت نہیں کر پائے۔ ساتھ ہی عمران خان سے تعلقات کے حوالے سے بھی کہنا تھا کہ عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔