بیٹی کی شادی کے لیے تو والدین شروع ہی سے جہیز جمع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سب ہی بیٹیوں کو ڈھیر سارا اور مہنگا ترین جہیز دینے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کوئی بیرونِ ملک سے مختلف چیزیں منگوا کر گھروں میں محفوظ کرلیتا ہے کہ جب بچی کی شادی ہوگی اس کو دے دیں گے۔ لیکن ہر کوئی جہیز دینے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ ہر وقت مالی حالات خراب ہونا نہیں ہوتے، بلکہ بعض مرتبہ جہیز کا چوری ہو جانا بھی شادی کے رنگ میں بھنگ ڈالتا ہے۔
کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال کی رہائشی خاتون سفیہ اپنے گھر میں ہونے والی ڈکیتی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ:
''
میری بیٹی کی شادی سے ایک دن پہلے گھر میں اچانک 2 چور گھسے، انہوں نے دروازے لاک کیے اور میرے سر پر پستول تان کر گھر میں موجود بیٹی کا سارا جہیز جمع کرنے لگے، انہوں نے گھر کے باہر ایک بڑا ٹرک بھی کھڑا کر دیا، یہ تمام تر جہیز اُٹھا اُٹھا کر ٹرک میں جمع کرتے رہے۔ میں شور بھی مچاتی تو کیسے انہوں نے میرے منہ کر باندھ دیا تھا اور گھر کی ساری کھڑکیاں بند کردی تھیں۔ اس وقت میرے گھر میں صرف میں اکیلی تھی اور کوئی نہ تھا، یہ واردات 3 گھنٹے تک چلتی رہی، اس دوران میرا بیٹا گھر آیا تو اس کو بھی پکڑ لیا اور اس سے ڈیڑھ لاکھ روپے کا موبائل تک چھین لیا۔ میں ان سے منت سماجت کرتی رہ گئی، لیکن کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔
''
گلشنِ اقبال سے ایک اور رہائشی خاتون اپنے ساتھ ہونے والی ڈکیتی کی وارادت کا بتاتے ہوئے رو پڑیں، خاتون کہتی ہیں:
''
میری 3 بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور وہ ملک سے باہر رہتی ہیں، ان کا سارا زیور میرے پاس ہوتا تھا تاکہ میں حفاظت کر سکوں، میرے چوتھی بیٹی کی شادی کا وقت قریب تھا، گھر میں جہیز کا سارا سامان جمع تھا، گھر پر صرف میں اور میری بیٹی تھی۔ میرے شوہر بینک گئے ہوئے تھے اور بیٹا اپنی نوکری پر تھا۔ اچانک گھر کے اندر کسی کے کودنے کی آواز آئی، میں نے جب کھڑکی کی طرف دیکھا تو 5 ڈاکو گھس آئے، انہوں نے میری بیٹی کا سارا جہیز اکٹھا کیا اور اپنے ساتھ ایک بڑا ٹرک لائے تھے، اس میں ڈالنا شروع کر دیا۔ مجھے ایک کرسی پر بٹھا کر رسیوں سے باندھ دیا تاکہ میں کچھ کر نہ سکوں اور میری دوسری بیٹیوں کا بھی سارا زیور جمع کرکے لے گئے۔ 1 گھنٹے بعد میرے شوہر جب گھر آئے تو بکھری ہوئی حالت دیکھ کر پریشان ہوئے، جب میں نے بتایا کہ یہ واقعہ پیش آیا تو وہ سکتے میں آگئے۔ ہم نے پولیس کو شکایت کی تو معلوم ہوا کہ گلشن میں ایک ایسا گروہ سرگرم ہے جو شادی والے گھروں میں سے جہیز چوری کرتا پھر رہا ہے۔
''
اگر آپ کے گھر میں جہیز کا سامان اکٹھا ہے تو اس کی نمود و نمائش نہ کریں، بلکہ خاموشی سے بیٹیوں کے سسرال روانہ کر دیں تاکہ آپ بھی اس قسم کے بڑے نقصانات سے بچ سکیں۔