جو کماتے سب یتیموں میں بانٹ دیتے تھے کیونکہ خود بھی یتیم تھے۔۔ نیا کی مہنگی ترین گھڑی رولیکس کے مالک کی کہانی

image

اگر آپ کو گھڑیوں کا شوق ہے تو رولیکس کا نام تو ضرور سنا ہوگا۔ یہ دنیا کی مہنگی ترین گھڑیاں بنانے والے کمپنی ہے ۔ یہ کمپنی 1905 میں بنائی گئی۔ اس برانڈ کی گھڑیوں کی قیمت کئی ہزاروں سے شروع ہوکر کروڑوں تک جاتی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر گھڑیاں بنانے والا یہ ادارہ نان پرافٹ ادارہ ہے یعنی سوائے اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے یہ سارا پیسہ خیرات میں دے یتا ہے

کم سنی میں یتیم ہونے والا بچہ دنیا کے مہنگے ترین ادارے کا مالک بن بیٹھا

رولیکس کے مالک ہنس ولزڈورف 1981 کو جرمنی میں پیدا ہوئے۔ اگرچہ ان کا گھرانہ مڈل کلاس تھا لیکن ہنس 12 سال کے ہی ہوئے تھے کہ باپ کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا۔ جس کے بعد ان کی نگہداشت کی ذمہ داری ان کے ایک انکل آنٹی کے پاس آگئ جنھوں نے ہنس کو فوری طور پر بورڈنگ اسکول میں داخل کروادیا۔ اگرچہ ہنس کو یہ صورت حال بالکل پسند نہیں آئی لیکن اس نے دل لگا کر تعلیم حاصل کی اور انگریزی زبان پر عبور حاصل کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ مستقبل میں یہ زبان اس کے کام آئے گی۔ جب ہنس کو محسوس ہوا کہ اس نے مناسب تعلیم حاصل کرلی ہے تو اس نے بورڈنگ کو خیرباد کہہ دیا اور عملی زندگی میں قسمت آزمانے نکل پڑا۔

صرف انگریزی کی بناء پر نوکری ملی

ہنس کی دور اندیشی اور انگریزی سیکھنے والی بات سچ ثابت ہوئی اور اسے ایک گھڑی بنانے والی چھوٹی سی کمپنی میں صرف اس لئے ملازمت مل گئی کیونکہ وہ انگریزی زبان پر عبور رکھتا تھا اور خط و کتابت کرنا جانتا تھا۔ کچھ عرصے بعد ہنس کو ڈیوس نامی شخص ملا اور بہت جلد دونوں میں دوستی ہوگئی جو بعد میں کاروباری شراکت داری تک پہنچ گئی۔ ہنس اور ڈیوس نے رولیکس کے نام سے گھڑیاں بنانی شروع کیں جو ساری دنیا میں گھڑیوں کا ایک بڑا برانڈ ہیں۔

کمائی کا 90 فیصد حصہ خیرات کردیا جاتا ہے

اگرچہ رولیکس ایک بہت بڑا برانڈ ہے لیکن اس کے باوجود یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے کیونکہ اس ادارے کے ماتحت افراد کو تنخواہ دینے کے علاوہ رولیکس تمام پیسہ یتیم خانوں کو خیرات کردیتا ہے۔ مختلف بین الاقوامی جرائد کے مطابق رولیکس اپنی کمائی کا 90 فیصد حصہ یتیم خانوں میں خیرات کردیتا ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ ادارے کا مالک ہنس ولزڈورف خود بھی ایک یتیم تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US