جس اسکول کے باہر ٹھیلے پر کیلے بیچتا تھا شام میں اسی میں پڑھتا تھا ! زاہد اپنی زندگی کے مشکل ترین سفر کے بارے میں بتاتے ہوئے

image

کیلے بیچتے بیچتے آج کراچی میں اپنی آئی ٹی کمپنی چلا رہا ہوں،اس کے امریکہ، برطانیہ ،میں آفسز ہیں۔ 175 ممالک میں میری بنائی ہوئی ایپلیکیشن چل رہی ہے۔ میں 17 ملکوں کے نام بھی نہیں جانتا،آج اس کیلے والے کو اللہ نے اتنی عزت دی ہے ۔ شام میں میں،میری امی اور میرا بھائی جس اسکول میں صفائی کیا کرتے تھے صبح میں اسی اسکول میں پڑھتا تھا۔ یہ کہنے کو بہت آسان لگتا ہے لیکن حقیقت میں بہت مشکل وقت تھا ۔ جب میرے برابر بیٹھا میرا دوست میری امی کو ماسی کہہ کر بلاتا تھا تو کلیجہ کٹ جاتا تھا۔ یہ کہنا تھا اسلام 360 کے بانی زاہد حسین چھیپا کا جو کہ ایک پروگرام میں میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ماضی کی کچھ یادیں اپنے گلوگیر لہجے میں بیان کر رہے تھے۔45 گز کا ہمارا گھر تھا۔ جس میں صرف ٹوائلت ہوتا تھا۔ نہانے کے لئے ہم صحن میں نہایا کرتے تھے کہ جب کوئی گھر میں نہیں ہوتا تھا تو گھر کا مین گیٹ بند کر کے نہا لیتے تھے ، ٹوائلٹ میں بھی دروازہ نہیں تھا پردہ پڑا ہوا تھا۔ ہزاروں دفعہ ایسا ہوا کہ جب ہمارے ہاں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا تو امی آدھا پاؤ دہی میں ڈھیر سارا پانی ملا کر ذرا سی چینی ملا کر ہم 6 بہن بھائیوں کو کھانے کے لئے دے دیتی تھیں۔ لیکن میں اس وقت بھی خواب بڑے بڑے دیکھتا تھا اور اپنے آپ سے کہتا تھا کہ زاہد کی منزل یہ نہیں ۔پیرزادہ قاسم کا ایک شعر ہے جو مجھے یاد رہتا ہے۔

میں اس شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں جوسوچتا بھی نہیں ، خواب دیکھتا بھی نہیں

تو میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ میری منزل یہ نہیں مجھے ابھی انشاء اللہ بہت آگے جانا ہے۔ مجھے تین ملکوں سے آفرہوئی کہ میں وہاں سیٹل ہوجاؤں،مجھے سعودی عرب،ناروے، اور جرمنی سے آفر ہوئی کہ میں ان کے ہاں رہوں لیکن میں نے کہا نہیں میں اپنے ملک میں بہت خوش ہوں ، میں یہیں رہوں گا۔ میری تین مرتبہ ون ٹو ون امام کعبہ سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے آپ کو دیکھ کر بڑی خوشی ہوتی ہے اور اس سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ یہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا پاکستان سے آیا ہے۔ جب زیورخ یونیورسٹی میں مجھے لیکچر کے لئے انوائٹ کیا تو میں سوچا کرتا تھا کہ جب میں آئی بی اے کراچی کے آگے سے گزرتا تھا تو رونے لگتا تھا کہ میں یہاں پڑھ نہیں سکتا اور آج اللہ نے اتنی عزت دی کہ میں جرمنی کی زیورخ یونیورسٹی میں لیکچر دینے آیا ہوں ، جو دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ میں بہت خوش ہوں میرے والدین بھی بہت خوش ہوں ،میرے والد نے ایک وقت میں گٹر تک صاف کئے۔ جب سعودی پرنس نے مجھے ایوارڈ دیا تو میرے ابا اس ایوارڈ کو لے کر اپنے محلے کے دودھ والے، بیکری والے، کریانے والے سب کو دکھا کر آئے ،میں نے ابا سے کہا کہ ابا آپ یہ کیا کر رہے ہیں مجھے شرم آرہی ہے تو میرے ابا نے کہا کہ آج تم نے ہمارا سینہ چوڑا کردیا ہے۔ اللہ نے تجھ سے اتنا بڑا کام لے لیا ہے۔ جب میرے ابا کا انتقال ہوا تو میں نے ایک آرٹیکل لکھا تو کمنٹس میں ایک صاحب نے لکھا کہ جب تمہارے ابا انشاء اللہ جنت میں پہنچے ہوں گے تو فرشتوں نے یہ کہہ کر تعارف کروایا ہوگا کہ یہ زاہد حسین چھیپا اسلام 360 والے کے والد ہیں۔ تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ آج میں اپنے والدین کے لئے اپنے ملک کے لئے فخر کا باعث بناہوں۔ میں اپنے ماضی پر شرمندہ نہیں ہوں ،میں نے اپنے وہ کپڑے بہت عرصے تک سنبھال کر رکھے جن پر کیلے کے داغ تھے۔ تو وہ داغ میرے لئے اچھے تھے کہ مجھے پتہ چلے کہ میری اوقات کیا تھی۔ میں جب بھی اپنے لندن یا امریکہ کہ آفسز میں جاتا ہوں تو میں یہ ضرور سوچتا ہوں کہ ایک کیلے والے کی یہ اوقات نہیں تھی یہ سب اللہ کا کرم ہے ،وہ جس کو چاہے نواز دے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US