پاکستان میں ایسے کئی مقامات ہیں جو کہ اس مٹی کے تاریخی اور پرانے ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ کچھ ایسے حوالے بھی ملتے ہیں جس میں فرعون ہی کی طرح کا ایک دور یہاں آباد تھا۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
مشہور یوٹیوبر کاشان کی جانب سے ساہیوال میں واقع ہڑپہ سٹی کا دورہ کیا گیا تھا اور ان تمام حیرت انگیز مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ بنایا گیا جو کہ بہت سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں۔
ہڑپہ سٹی ایک مکمل سیولائزیشن 1300 قبل از مسیح آباد تھی، اس کے کچھ حصے افغانستان اور کچھ حصے بھارت میں بھی موجود ہیں لیکن کچھ حصے ساہیوال اور ایک اہم حصہ موئن جو دڑو سندھ میں واقع ہے۔
ویڈیو میں ہڑپہ کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بتایا گیا، چھوٹے چھوٹے گھوڑے اور دیگر جانوروں کے مجسمے بھی میوزیم میں موجود تھے جبکہ دیگر روز مرہ کے استعمال کی چیزیں بھی میوزیم کی شان بڑھا رہی ہیں۔
لیکن اس سب میں جو اہم چیز ہے وہ یہ کہ یہاں ہڑپہ سٹی میں سڑکوں کا نظام، نکاسی آب کی فراہم کا نظام بھی لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ لوگ حیران رہ جاتے ہیں کہ کئی سو سال پہلے بھی لوگ مکمل نظام کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔
مقامی میوزیم میں ہڑپہ سیولائزیشن سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی باقیات کو بھی محفوظ رکھا گیا ہے، کچھ ایسے ڈھانچے بھی پائے گئے ہیں جو کہ کئی سو سال پرانے تو ہیں مگر ابھی تک ڈھانچے مکمل سلامت ہیں اور لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔
عام طور پر یہی تصور کیا جاتا ہے کہ فرعون کی ممی ہی میوزیم میں رکھی جاتی ہے مگر پاکستان کے میوزیم میں سفید اور موٹی ہڈیوں کے ساتھ شیشے کے تابوت میں موجود یہ لاش کسی عام انسان کی ہڈیوں سے اس طرح مختلف ہے کہ اس کی ہڈیوں سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کوئی طاقتور انسان تھا، عین ممکن ہے کہ اس وقت کی خوراک کا اثر ہو جو اس کی ہڈیاں اس حد تک مضبوط ہوں۔
بہر حال بھارت میں بھی ہڑپہ کے مقامات سے انسانوں کی باقیات کچھ اس حالت میں پائی گئی ہیں جو کہ ایک جوڑے کی ہے اور شاید ایک ساتھ ہی انتقال کر گئے تھے۔
اس کے علاوہ ویڈیو میں ایک ایسی قبر کا بھی ذکر کیا گیا جو کہ 9 گز کی ہے۔ دراصل ساہیوال شہر میں اسی میوزیم کے پاس واقع اس قبر کے حوالے سے خیال ہے کہ یہ قبر صوفی بزرگ کی ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ اگر یہاں آ کر نمک چکھ لیا جائے تو آپ نمک حرام نہیں ہوں گے۔