پہاڑ کی اس چوٹی پر لوگ نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ پاکستان میں موجود کوہ سلیمان جہاں پٹھان صحابی کی قبر موجود پے

image

پاکستان کے تخت سلیمان کے پہاڑ دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں، حیرت انگیز اور منفرد بناوٹ کی وجہ سے جانے جانے والے اس پہاڑی سلسلے کی تاریخ بھی نرالی ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع اس پہاڑی سلسلے کا سب سے اونچا مقام 3487 میٹر کی بلندی پر ہے، اسی لیے یہ مقام تخت سلیمان کہلاتا ہے۔ جبکہ بلوچستان میں زرغون غار کے مقام پر 3578 کی اونچائی پر واقع ہے۔

ڈان کی رپورٹ کی مطابق ابن بطوطہ کے مطابق حضرت سلیمان نے ایشیاء کو دیکھنے کے لیے اسی پہاڑ یعنی کوہ سلیمان پر چڑھائی کی تھی۔

پاکستان کا ایسا پہاڑ جس کے ایک طرف بلوچستان، دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان اور تیسری جانب شمالی وزیرستان ہے۔ لیکن مقامی لوگ کوہ سلیمان کو ایک اور نام اور تاریخ کی وجہ سے یاد کرتے ہیں۔

صحابی کی قبر:

مقامی افراد اس پہاڑ کو دا قیسر غار کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقامی افراد کا ماننا ہے کہ یہاں قیس عبدالرشید کی قبر واقع ہے۔ قیس لیجنڈری پشتون شخصیت تھے جنہیں تخت سلیمان کی اونچائی پر دفن کیا گیا ہے اور وہ اسی مقام پر آرام فرما رہے ہیں۔

قیس عبدالرشید کے بارے میں ماننا ہے کہ وہ پہلے پختون تھے جنہوں نے مکہ اور مدینہ سفر کر کے اسلام کے ابتدائی دنوں میں آقائے دو جہاں ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔

جبکہ اس پہاڑ سے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان اس پہاڑ کو اپنے تاج کے طور پر استعمال کرتے تھے اور جنات کو اسی پہاڑ سے کنٹرول کرتے تھے۔

مقامی افراد کا آج بھی ماننا ہے کہ غیر معمول طاقتیں آج بھی اس ریجن میں موجود ہیں لیکن سیاحوں کے حوالے سے اب تک کوئی مسائل پیش نہیں آئے۔ دوسری جانب عقیدت مند آج بھی اس پہاڑ کی اونچائی پر نماز ادا کرنے آتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US