سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں جس میں پاکستان کے ان مقامات کے بارے میں بتایا جاتا ہے جو کہ اپنا ایک تاریخی مقام رکھتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو ایک ایسے ہی مقام کے بارے میں بتائیں گے۔
اسلام آباد پاکستان کا وہ پرانا شہر ہے جو سیاسی تاریخ تو رکھتا ہی ہے مگر اولیائے کرام اور بزرگان دین کی عبادت کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔
اسلام آباد کا علاقہ شکر پڑیاں اپنے اندر راز تو رکھتا ہی مگر تاریخی طور پر بھی بہت کچھ بتا رہا ہے۔ انڈیپینڈینٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق شکر پڑیاں کا نام بھی کافی منفرد اور تاریخی ہے۔
ایک روایت کے مطابق بابا فرید شکر گنج اسی مقام پر ٹھہرے تھے۔ ایک دن جب پٹھان تاجر گدھے پر بوری لادے گزر رہا تھا تو بابا فرید شکر گنج نے پوچھا کہ کیا لے کر جا رہے ہو؟ جس پر تاجر نے سوچا کہ کہیں بابا مجھ سے شکر نہ مانگ لیں، اور جواب دیا کہ نمک ہے۔
پھر بابا نے کہا کہ اچھا نمک ہی ہوگا۔
لیکن جب وہ تاجر اپنی دکان پر وہ بوری لے کر پہنچا اور کھول کر دیکھا تو حیران رہ گیا کہ بوری میں نمک موجود تھا۔ جس پر تاجر دوڑتا ہوا واپس بابا کے پاس گیا اور کہا بابا بوری میں تو شکر تھی، جس پر بابا نے کہا کہ اچھا، شکر ہی ہوگی۔ جب واپس جا کر دیکھا تو سچ مچ شکر ہی تھی۔
جب یہ واقعہ مشہور ہوا تو لوگ بابا فرید شکر گنج کی زیارت کو آنے لگے۔ آج شکر پڑیاں میں زیرو پوائنٹ پر حضرت داتا شکر گنج سے منسوب جگہ بھی موجود ہے، اس مقام کے ارد گرد ہریالی موجود ہے جبکہ قدرتی حسن سے یہ جگہ مزید دلکش ہے۔
دوسری جانب اسی مقام پر ایک ایسی شخصیت کی قبر بھی موجود ہے جو کہ انوکھی تو ہے مگر بناوٹ کے لحاظ سے منفرد۔ اس قبر کے حوالے سے جو کہانی سامنے آئی وہ بڑی دلچسپ ہے۔ یہ قبر راجہ گگو خان کی ہے جو کہ برطانوی فوج کا حصہ رہ چکے تھے، ان کے پوتے راجہ منظور حسین شکرانی آج بھی دادا کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے میرپور آزاد کشمیر سے آتے ہیں۔
گگو خان کی شادی شکر پڑیاں کی رانی مائی ہیر سے ہوئی تھی، راجہ منظور بتاتے ہیں کہ تایا کی قبر بھی یہی تھی مگر یہاں بننے والے فلائی اوور کی وجہ سے اب ختم ہو گئی۔ راجہ منظور کا کہنا تھا کہ دادا جاپان کے محاز جنگ کے بعد سے اسی مقام پر رہا کرتے تھے اور لنگر چلاتے تھے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے ایک روحانی سلسلے شکرانیہ کی بنیاد رکھی۔
اسلام آباد کا شکر پڑیاں اپنے اندر کئی راز رکھے ہوئے ہے، دارالحکومت اپنے اندر اُن صوفیائے کرام اور بزرگان دین کی کہانیاں سمائے ہوئے ہے جو کہ سب کو جذباتی کر دیتی ہیں۔