سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز موجود ہیں جس میں کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے لیکن یہ معلومات اس حد تک منفرد ہوتی ہیں کہ سب کی وجہ حاصل کر لیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
مردان کے عبدالرزاق کا تعلق ایک ایسے پٹھان گھرانے سے ہے جہاں قبائلی روایتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ چونکہ عبدالرزاق جسمانی طور پر معزور اور کسی بھی بھاری چیز کو اٹھانے سے قاصر تھے۔ اسی لیے ہمیشہ اللہ سے کسی ایسے کام کی دعا کرتے تھے جو وہ باآسانی کر سکیں۔
اور پھر کچھ یوں ہوا کہ عبدالرزق کے والد کے دوست نے انہیں اچار بیچنے کا مشورہ دیا، جس نے ان کی زندگی ہی بدل دی۔
عبدالرزاق بتاتے ہیں کہ مردان میں اچار کی مانگ اس حد تک ہے کہ رمضان میں اگر اچار نہیں تو روزہ نہیں۔ مردان میں شہری افطاری میں اچار کا استعمال لازمی کرتے ہیں۔
اور پھر اچار ہو "مردان کے شاہ کا اچار" تو پھر افطاری کا مزاح ہی دوبالا ہو جاتا ہے۔
عبدالرزاق بتاتے ہیں کہ اچار کے بنانے میں کوائلٹی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ کسی بھی قسم سے ہم کوائلٹی کو نہیں گرنے دیتے ہیں۔
شاہ جی کے مشہور اچار کی کہانی 1977 سے شروع ہوئی تھی جو کہ آج مردان سمیت پورے پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں شہرت پا رہی ہے۔
لیموں، املی اور کیری کو جب ایک ساتھ مصالحوں کے بیچ مکس کیا جاتا ہے تو جو خوشبو محسوس کی جاتی ہے وہ سخت سے سخت انسان کے منہ میں بھی پانی لے آتی ہے۔ اور پھر چھپے ہوئے کچھ ایسے مصالحوں کا استعمال جو کہ اس اچار کو مزید چٹخارے دار بنا دیتا ہے۔
سید عبدالرزاق بتاتے ہیں کہ ہمارے ہاں سے لوگ اچار سعودی عرب، دبئی، افغانستان، حتیٰ کہ تھائی لینڈ اور جاپان بھی لے کر جاتے ہیں۔ کوائلٹی کے ساتھ ساتھ اس اچار کی ایک اور خاص بات یہ بھی ہے اس میں کسی قسم کی دو نمبر چیزوں کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔
کوائلٹی کے حوالے سے سید عبدالرزاق اس حد تک حساس ہیں کہ 10 روپے والے پیکٹ میں بھی وہی چیز موجود ہوتی ہے جو کہ 100 روپے والے پیکٹ میں ہوتی ہے۔ مردان کی افطاری کی ایک اہم ڈش شاہ جی کا اچار تو سب میں ہی توجہ حاصل کر رہا ہے جہاں لوگ افطاری میں اچار نہ ہونے پر دلبرداشتہ ضرور ہو جاتے ہیں۔
کیا آپ کے علاقے میں بھی کوئی ایسی ہی منفرد اور دلچسپ ڈش ہے جو کہ افطاری میں ہر صورت موجود ہے یا آپ ہر صورت اسے کھانا پسند کرتے ہیں؟ اگر ہاں تو کمنٹ میں ہمیں ضرور بتائیں۔