"آج میں نے اس عورت کو کھو دیا جو میری ماں بنی تھی جب مجھے سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ پوری دنیا اپنا ایک قیمتی اثاثہ کھو بیٹھی"
یہ الفاظ کہنے والی خاتون تہمینہ درانی ہیں جو اس وقت پاکستان کی خاتون اول بھی ہیں۔ تہمینہ درانی پاکستان کی معروف سماجی کارکن بلقیس ایدھی کے انتقال پر دلگرفتہ ٹوئٹ کرتے ہوئے مزید لکھتی ہیں کہ" میں میٹھادر سے اس یقین کے ساتھ واپس آئی تھی کہ ہم دوبارہ ملیں گے، افسوس میں آخری الوداع کہنے کے لیے واپس وہاں جارہی ہوں۔ بلقیس ایدھی صرف ایک عورت تھیں لیکن وہ کیا عورت تھیں"
بلقیس ایدھی کے چہرے پر چاند کا نور تھا
تہمینہ درانی، بلقیس ایدھی کی میت کے دیدار کے لیے ان کے اہل خانہ سے ملیں۔ میت کے ساتھ تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے تہمینہ نے لکھا کہ" اگرچہ ہم ساری رات ان کے ساتھ بیٹھے رہے لیکن بلقیس ایدھی کے چہرے کی جانب دیکھنا ممکن نہیں تھا ان کے چہرے پر چاند جیسا نور تھا جس کی وجہ سے نظر ان پر ٹہر نہیں رہی تھی"
واضع رہے کہ بلقیس ایدھی دنیا بھر میں مشہور پاکستان کے نامور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کی بیوہ تھیں اور خود بھی ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے ساری زندگی اپنے شوہر کے ساتھ انسانیت کی خدمت میں مگن رہیں۔ بلقیس ایدھی کچھ عرصے سے بیمار تھیں اور کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ گزشتہ روز ان کا انتقال کراچی میں ہوا۔