پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ان کے دور حکومت میں مختلف ریاستوں سے تحائف موصول ہوئے۔
خبر رساں ادارے فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق، عمران خان اور ان کی اہلیہ نے توشہ خانہ سے 14 کروڑ روپے کے تمام 112 تحائف اپنے پاس رکھے اور صرف چار کروڑ روپے سے بھی کم ادائیگی کی۔
رپورٹ میں درج کچھ تحائف میں مندرجہ بالا تصویروں میں دیے گئے تحائف بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 رولیکس گھڑیاں تحفے میں دی گئی تھیں لیکن صرف پانچ کی قیمت درج کی گئی ہے۔
سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے وہ سب کچھ اپنے پاس رکھا ہے جو انہیں مختلف ریاستوں نے تحفے میں دیا تھا۔ تحائف میں پرتعیش رولیکس گھڑیاں، سونے اور ہیروں کے زیورات، لاکھوں مالیت کے کفلنک، مہنگے ڈنر سیٹ اور پرفیوم شامل ہیں۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے 500 روپے مالیت کی کتاب بھی رکھی۔ ساتھ ہی ایک دسترخوان، ایک سمسونائٹ بیگ اور یہاں تک کہ ایک تسبیح بھی شامل ہے۔
دیگر تحائف میں دیوار پر لٹکے شوپیس، (Wall Show Piece) سجاوٹ کے ٹکڑے، خانہ کعبہ کی چابی کی ایک کاپی، عطر اور شہد شامل ہیں۔
سب سے مہنگا تحفہ 85 ملین روپے (8 کروڑ پچاس لاکھ روپے) کی ایک گراف گھڑی تھی، جسے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان کو تحفہ میں دی تھی جب وہ 18 ستمبر 2018 کو سعودی عرب گئے تھے۔ اسے توشہ خانہ دینے کے بجائے جو کہ ہر وزیر اعظم اور ان کا خاندان کرنے کا پابند ہے۔ عمران خان نے دبئی میں گھڑی بیچی، وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق خان نے 2020-21 میں ٹیکس جمع کرواتے وقت گھڑی پر ٹیکس گوشوارے کا اعلان بھی کیا تھا۔