"میں نماز پڑھ کر جائے نماز کا کونا موڑ دیتی ہوں کہ کہیں شیطان نماز نہ پڑھ لے"
نبیلہ نے جائے نماز سے اٹھتے ہوئے اپنی پڑوسن سے کہا اور انھوں نے بھی سر ہلا دیا لیکن پاس بیٹھی نبیلی کی 8 برس کی بیٹی کو یہ بات کچھ سمجھ نہیں آئی کہ گستاخ شیطان کو اتنی توفیق کیسے مل گئی کہ وہ نماز پڑھے اور اگر اب اسے یہ نیک خیال آ ہی گیا ہے تو امی اسے کیوں نماز پڑھنے سے روکنا چاہتی ہیں؟ اگر شیطان نماز پڑھ کر اللہ کو سجدہ کر لے تو پھر تو مزے ہیں نہ وہ انسانوں کو بہکائے گا نہ ہی کوئی انسان دوزخ میں جائے گا۔
من گھڑت باتوں کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں
حیرت کی بات ہے کہ ایک 8
سال کی بچی تو اس بے منطق کی بات کو سوچ رہی ہے لیکن ہمارے ہاں اچھے بھلے بزرگ افراد بھی سوچنے سے غافل ہو کر لکیر کے فکیر بنے ہوتے ہیں اور سنی سنائی باتوں پر یقین کر بیٹھتے ہیں۔
صرف قرآن اور احادیث کی باتوں پر عمل کریں
آپ نے اکثر ایسی توہم پرستی کی باتیں ضرور سنی ہوں گی اور شاید ان کو مانتے بھی ہوں لیکن اگر قرآن مجید کھول کر مطالعہ کریں تو ایسی باتوں کا سرے سے کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اس لیے بہتر ہے کہ ان ہی باتوں کو مانا جائے جن کے بارے میں قرآن مجید اور مستند احادیث ہمیں حکم دیتے ہیں۔