ساس کا جنازہ اُٹھا نہیں، بہوؤں کو جائیداد کا حصہ مانگنے کی پڑ گئی ۔۔ ہر گھر میں ہونے والی کچھ ایسی دلخراش باتیں جو تربیت پر سوال اٹھاتی ہیں

image

اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی میں کئی رشتوں سے نوازا ہے۔ ماں ہو یا بیٹی کا رشتہ، باپ ہو یا بھائی۔ یہ تو سگے رشتے ہیں۔ مگر میاں بیوی کا رشتہ سب سے منفرد اور سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ شوہر کے ساتھ ایک عورت کو ساس، سسر، نند، دیور، جیٹھ، جیٹھانی، دیورانی جیسے نازک رشتے بھی ملتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی بھی ساس ماں بن کر رہے اور کوئی بھی عورت بیٹی بن کر سسرال کو سنبھالے، اس گھر میں لڑائیاں نہیں ہوتیں، سب مل بانٹ کر خوشی سے رہتے ہیں۔

لیکن زیادہ تر یہی سننے میں آتا ہے کہ ساس اور بہو کی آپس میں نہیں بنتی اور گھر خوشیاں سے زیادہ نفرتوں میں پھلتا پھولتا ہے۔ عزت اور محبت کے رشتے محض نام کے رشتے بن کر رہ جاتے ہیں۔ بہوئیں اپنی ساس کی برائیاں اور ساسیں اپنی بہوؤں کی برائیاں کرتی نظر آتی ہیں، جن میں سب سے زیادہ ایک مرد کو تکلیف ہوتی ہے کہ وہ کس کو سنبھالے، اپنی والدہ یا اپنی بیگم کو؟ یہ باتیں یقیناً ہر گھر میں ہوتی ہیں۔ لیکن اس سب سے بڑھ کر تربیت کی کمی اس وقت دکھائی دیتی ہے جبکہ ساس کا انتقال ہو جائے اور بہوئیں جائیداد کے حصوں کا مطالبہ کردیں۔

ایک خاتون اپنے گھر کی کہانی بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ: '' میری والدہ کا انتقال ہوگیا، سب لوگ گھر میں تعزیت کے لیے جمع تھے، میت والا گھر تھا، ابھی جنازہ اٹھا نہیں تھا کہ گھر کی بہوؤں نے جائیداد میں حصے کا مطالبہ کردیا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے ان بدبخت رانیوں کو صرف میری ماں کے مرنے کا ہی انتظار ہو کہ کب یہ دنیا سے رخصت ہوں اور کب ان کو جائیداد میں حصہ ملے۔ ہم نے کبھی بھی یہ نہیں کہا تھا کہ والدہ کی جائیداد کا حصہ کسی کو نہیں دیں گے، بلکہ میری امی اپنی زندگی میں ہی اپنے بچوں کے نام ساری جائیداد کرکے گئیں تھیں، جس کا پتہ گھر میں صرف بڑے بھائی اور بڑی بہن کو تھا۔ بھابیاں اس بات سے انجان تھیں۔ لیکن جب سب کے سامنے انہوں نے کہا یہ تو مرگئیں، اب جائیداد کا حصہ بھی الگ کرو، کفن دفن کا سارا انتظام بھی سب میں مل کر بانٹو، کوئی بھی ایک خرچہ کیوں اٹھائے۔ اس وقت یہ الفاظ دل کو زخمی کر رہے تھے کہ کوئی اتنا ظالم کیسے ہوسکتا ہے؟ ''

جس خاتون نے امی کو نہلایا دھلایا، کفن پہنایا انہوں نے سب کے سامنے استغفار پڑھا اور بھابیوں کو سمجھایا کہ یہ آپس کے معاملے ہیں یوں سب کے سامنے واضح طور پر نہ کہو، حصے مل جائیں گے، کم سے کم میت کا لحاظ تو کرو، ان کو دفنانے تو دو۔ یہ وقت شاید زندگی میں مشکل ترین تھا، جس وقت احساس ہوا کہ تربیت کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ شکر ہے ہماری ماں نے ہمیں یہ سب نہیں سکھایا ورنہ ہم بھی کسی غیر کے گھر میں یوں حصے مانگتے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US