یہ جانور بھی روزہ رکھتے ہیں ۔۔ جانوروں سے متعلق دلچسپ معلومات، جو شاید آپ بھی نہیں جانتے ہوں گے

image

سوشل میڈیا پر ایسی کئی خبریں موجود ہیں جو کہ دلچسپی کا باعث بن جاتی ہیں، کچھ اس حد تک منفرد ہوتی ہیں جو کہ حیرانی کا باعث بھی بنتی ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔

جانور بھی انسان کی طرح روزے رکھتے ہیں مگر فرق یہ ہوتا ہے کہ یہ کسی خاص وجہ سے کچھ کھاتے نہیں ہیں۔

انڈونیشیاء کی یونی ورسٹی احمد دہلان کی تحقیق کے مطابق جانور بھی مختلف وجوہات کی بنا پر روزے رکھتے ہیں، بہت سے جانور کھانا پینا تُرک کر دیتے ہیں۔

عام طور پر ٹھنڈے ماحول میں رہنے والے جاندار جن میں بھالو، سیل، چمگادڑ، چوئیا، چھپکلی سمیت کئی کیڑے مکوڑے شامل ہیں، کھانا پینا ایک خاص مدت تک کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام جاندار ہائیبرنیشن کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں جس میں ان کا جسمانی درجہ حرارت گر رہا ہوتا ہے، سانس میں دشواری کا سامنا بھی ہوتا ہے اور دل کی دھڑکن بھی دھڑکنا کم کر دیتی ہے۔ ایسے میں یہ جاندار ایک خاص مدت تک کے لیے یا تو سوتے رہتے ہیں یا پھر نقل و حرکت کم کر دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب کبھی گھر میں یا آس پاس چھپکلی کو سرد موسم میں دیکھتے ہیں تو وہ ایسے معلوم ہوتی ہے جیسے کہ مردہ ہے مگر دراصل وہ اسی عمل سے گزر رہی ہوتی ہے۔

اسی طرح کچھ پالتو جانور ایسے بھی ہیں جو کہ خاموش ہو جاتے ہیں اور روزہ رکھ لیتے ہیں۔ ہاتھی، بلی اور کتا جب کبھی افسردہ ہوتے ہیں تو کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں۔ افسردگی کا اثر اس حد تک ہوتا ہے کہ کھانے کے ساتھ ساتھ ایک طرح سے جینا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔

جبکہ گھوڑا اور گائے بیماری کی حالت میں کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ جاندار ایسے بھی ہیں جو کہ ڈی ہائڈریشن سے بچنے کے لیے یا غذائی قلت کے باعث روزے رکھ لیتے ہیں۔ جن میں مگرمچھ، سانپ، مینڈک سمیت کئی جاندار شامل ہیں۔

دوسری جانب سانپ اس لیے بھی کھانا کھانا چوڑ دیتا ہےکیونکہ وہ کسی بڑے شکار کی تلاش میں ہوتا ہے، سانپ نے اپنا ٹارگٹ فکس کر لیا ہوتا ہے اور پھر اس کے سائز کے حساب سے اپنے پیٹ میں جگہ بنا رہا ہوتا ہے، جس کے لیے سانپ کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک بھوکا رہتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US