سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات سے متعلق ایسی کئی معلومات موجود ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں۔ لیکن ان مشہور شخصیات کے اولاد کی محرومی یا اولاد کے جانے کا دکھ اس حد تک ہوا کہ سب ہی افسردہ ہو گئے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
شہلا رضا:
شہلا رضا پاکستانی سیاست کا وہ نام ہے جس نے سب کی توجہ حاصل کر لی، سندھ اسمبلی میں اپنے دلچسپ انداز کی بدولت سب ہی شہلا رضا کو جانتے ہیں۔
لیکن ان کے ساتھ افسوس ناک واقعہ اس وقت رونما ہوا جب کہ عید کے روز اپنے بچوں کے ہمراہ عباس ٹاؤن کی ایک سڑک سے گزر رہی تھیں جہاں گڑھا موجود تھا۔ بارش کا پانی اس گڑھے میں بھر جانے کی وجہ سے وہ گڑھا ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کہ سڑک پر پانی ہو۔
یہی وہ غلطی تھی کہ ڈرائیور سے ہوگئی اور شہلا رضا کے دونوں بچے بیٹی اور بیٹا اس حادثے میں جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ لیکن شہلا رضا آج بھی بچوں کو یاد کر کے اشکبار تو ہو جاتی ہیں مگر اسے اللہ کی طرف سے ایک امتحان سمجھتی ہیں، اور اسے قبول بھی کر لیا ہے۔
قمر زمان کائرہ:
پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما قمر زمان کائرہ کے اکلوتے بیٹے کے ساتھ بھی ایک ایسا ہی افسوس ناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں وہ اس دنیا سے چلے گئے تھے، تیز رفتاری کے باعث قمر زمان کائرہ کے بیٹے کی گاڑی کو حادثہ میں پیش آیا تھا، جس میں وہ انتقال کر گئے تھے۔
اکلوتے بیٹے سے والد بے حد پیار کرتے تھے لیکن بیٹے کے انتقال کے بعد والد افسردہ تو تھے مگر اسے اللہ کی مرضی سمجھ کر قبول کر لیا۔ ساتھ ہی قمر زمان کائرہ کا ماننا ہے کہ اللہ کی جانب سے اولاد دی گئی تھی جو اس نے واپس لے لی۔
دردانہ بٹ:
مشہور پاکستانی ڈرامہ اداکارہ دردانہ بٹ اگرچہ اپنے دلچسپ اور مزاحیہ انداز کی بدولت سب کی توجہ حاصل کر چکی تھیں، مگر اس ہنسی کے پیچھے ایک دکھ تھا جو انہیں احساس محرومی میں مبتلا کر دیتا تھا۔
دردانہ بٹ اگرچہ ٹام بوائے قسم کی تھیں مگر انہیں بچوں سے بے حد پیار تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کی بھی اولاد ہو لیکن یہ خواہش ان کی پوری نہ ہو سکی۔
دردانہ کے شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنا وقت صوفیانہ طور پر گزارنا شروع کر دیا تھا۔
دلیپ کمار:
مشہور بھارتی اداکار دلیپ کمار اور سائرہ بانو بھی اولاد کی خوشی سے محروم ہیں، دلیپ کمار اپنی زندگی میں ہر خوشی کو محسوس کر چکے تھے مگر انہیں صرف ایک ہی دکھ ہوتا تھا اور وہ دکھ تھا بے اولاد ہونے کا۔
اگرچہ وہ اسے اللہ کی مرضی سمجھ کر قبول کر رہے تھے مگر اولاد کے ہونے کے احساس کو شدت سے محسوس کر رہے تھے۔