کوئی مر جائے تو حلوہ بانٹا جاتا ہے۔۔ ترکی کے کچھ عجیب و غریب رواج جو دنیا میں کہیں اور نہیں پائے جاتے

image

یورپ کی سرحدوں سے ملتا ہوا اسلامی ملک ترکی اگرچہ مغربی طرزِ زندگی رکھتا ہے لیکن وہاں موجود تاریخی عمارتیں اور منفرد ثقافت پوری دنیا کے لئے انوکھی ہے۔ خوبصورت اور عالیشان عمارتوں سے سجے ترکی کے رواج بھی کافی انوکھے ہیں جو وہاں رہنے والے صدیوں سے اپنائے ہوئے ہیں۔ آج ہم ترکی کے کچھ ایسے ہی عجیب و غریب رواجوں کے بارے میں بات کریں گے جو دنیا میں شاید ہی کہیں اور پائے جاتے ہوں۔

کوئی مر جائے تو حلوہ بانٹتے ہیں

خوبصورت موسم ہو یا کوئی خوشی کا دن ہو تو حلوہ بنایا بھی جاتا ہے اور کھایا بھی جاتا ہے لیکن ترکی ایک ایسا ملک ہے جہاں غم کے موقع پر بھی حلوہ بنایا جاتا ہے۔ ترک شہری اس حلوے کو حیلوہ کہتے ہیں جسے ہمیشہ سوجی سے ہی بنایا جاتا ہے اور چاہیں تو عام حلووں کی طرح اس میں خشک میوہ جات ڈالے جاسکتے ہیں۔ میت والے گھر یہ حلوہ بنانے کا مقصد خوشی کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ عزیز رشتے داروں کے اکھٹا ہونے اور اتحاد کی علامت کے طور پر حلوہ پکایا جاتا ہے اور گھر آنے والوں کی خاطر تواضح کے علاوہ یہ بانٹا بھی جاتا ہے۔ یہ ترک ثقافت کا حصہ ہے۔

باتھ روم میں مسلم شاور نہیں ہوتے

اسی طرح ایک مسلمان ملک ہونے کے باوجود سیاحوں کو شدید حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب ترکی کے باتھ روم میں مسلم شاور نہیں ملتے۔ دراصل ترکی میں کموڈ کے اندر ایک نل موجود ہوتا ہے جس سے پانی آتا ہے جس کا بٹن دیوار کے ساتھ نصب ہوتا ہے۔

10 روز چلنے والا عرس

پاکستان اور بھارت کی طرح ترکی میں بھی عرس منانے کا تصور موجود ہے لیکن یہ عرس 10 دنوں تک چلتا ہے۔ ترکی میں مشہور فارسی اسکالر مولانا رومی کا عرس ہر سال دسمبر کے مہینے میں 10 سے 17 تاریخ تک منایا جاتا ہے جس میں ترک شہری اپنے روایتی لباس میں جھومتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US