سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں جو کہ سب کو افسردہ کر دیتی ہیں، کچھ کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے کہ ممکن ہو سکتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہے جس میں ایک صحافی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ عام طور پر صحافیوں اور میڈیا سے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کی زندگی بڑی آرام دہ اور پُرسکون ہوتی ہے۔
شہرت کے ساتھ ساتھ انہیں زندگی کی آسائش بھی میسر آتی ہے، مگر یہ صرف قیاس آرائی ہے، یا اگر ممکن ہے بھی تو ان صحافیوں کے لیے جو کہ بڑے نام ہیں۔
باقی بڑے چینل اور اخبار کے چھوٹے صحافی ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں جس میں ان کے جوتے تک پھٹ جاتے ہیں مگر صرف اس لیے تبدیل نہیں کرتے کہ پہلے بچوں کا پیٹ پال لوں۔
صحافی علی عمران جونئیر کے فیس بک پیج پر ایک تصویر اپلوڈ کی گئی جو کہ جنگ اخبار کے وقار بھٹی کی جانب سے شئیر کی گئی تھی۔
اس تصویر میں وقار بھٹی کا کہنا تھا کہ آج ایک بڑے اخبار کے سینئر رپورٹر نے اپنی گاڑی کی سی این جی کٹ صرف اس لیے بیچی کیوں کہ اس کے پاس بچوں کا دودھ لینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔
نوزائیدہ بچوں کے لیے ماں باپ کچھ بھی کر جاتے ہیں لیکن جب ہر جگہ سے آپ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو آپ مجبور ہو جاتے ہیں۔
وقار بھٹی نے لکھا کہ نوزائیدہ بچے کے دودھ کے لیے سی این جی کٹ بیچنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ صحافی کو گزشتہ ماہ کی تنخواہ بھی اب تک نہیں ملی۔
ظاہر ہے اگر اب کوئی بے روزگار کے ساتھ یہ معاملہ ہو کہ بچوں کو دودھ پلانے کے پیسے نہ ہوں تو سمجھ آتا ہے مگر روزگار بھی کر رہا ہو اور تنخواہ بھی وقت پر نہ مل رہی ہو، ایسے میں صحافی ہو یا پھر کوئی روزگار کرنے والا شخص، مجبور ضرور ہو جاتا ہے۔