افغانستان میں طالبان کی حکومت بنتے ہی مغربی دنیا اور غیر اسلامی ممالک نے ایک بار پھر طالبان کے خلاف مورچہ کس لیا ہے۔ کسی بھی حکومت کو ملک چلانے کے لئے وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے طالبان حکومت سے کسی چراغ کے جن کی طرح مسائل حل کرنے کی امید کھی جارہی تھی جو افغانستان کے تمام اثاثے ضبط ہونے کے باوجود وہاں کے ہر چھوٹے مسئلے کو نمایاں کرکے دنیا کو دکھایا جارہا ہے۔
دشمن نے لڑکیوں کی تعلیم کو پروپگینڈے کا حصہ بنا لیا ہے
افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے منفی خبروں کے دنیا بھر میں وائرل ہونے کے بعد پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور عالمِ دین مفتی تقی عثمانی سے طالبان کے سربراہ مولانا ہیبت اللہ کے نام ایک خط لکھا ہے۔ مفتی تقی عثمانی خط میں لکھتے ہیں کہ “افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ دشمن نے پروپگینڈے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہم افغانستان میں کیے گئے طالبان کے اقدامات کی قدر کرتے ہیں۔ تعلیم یافتہ خواتین ملک اور معاشرے کی اہم ضرورت ہیں اس لئے ہماری رائے میں شرعی حدود میں رہتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم ضروری ہے“
لڑکے لڑکیوں کی پڑھائی کے لئے الگ جگہیں ہونی چاہئیں
مفتی تقی عثمانی نے مزید لکھا کہ “وہ اسلام دشمن ممالک جو ان بے بنیاد باتوں کو وجہ بنا کر اسلام اور افغانستان کے خلاف پروپگینڈہ کر رہے ہیں ان کی تردید کی جانی چاہئیے۔ لوگ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ اسلام خواتین کی تعلیم کے خلاف ہے جو کہ ایک غلط نظریہ ہے لڑکیوں اور لڑکوں کی تعلیم کے لئے الگ الگ جگہیں ہونی چاہئیں اور مختلف اوقات میں کلاسز کے ذریعے ان مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔