سوشل میڈیا پر رمضان اور روزوں سے متعلق ایسی کئی خبریں موجود ہیں جو کہ دلچسپی کا باعث بن جاتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے کہ سمندروں میں رہنے والے افطاری کیسے کرتے ہیں، اور ان کی افطاری میں کیا کیا چیزیں ہوتی ہیں۔
سمندر ایک ایسا ساتھی ہے جو کہ بحری جہاز چلانے والوں سے باتیں کرتا ہے، اپنی جاندار لہروں سے جہاز کو ڈگمگاتا ہے اور جہاز چلانے والے کو بھی ڈراتا ہے۔
لیکن اس سب میں جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو صورتحال دلچسپ ہو جاتی ہے کیونکہ انسان اور گہرے سمندر میں جب انسان اکیلا ہوتا ہے وہ اپنے دل کے قریب اللہ کو پاتا ہے۔
سمندر ایک ایسا مقام ہے جہاں انسان دور دور تک صرف سمندر ہی کو پاتا ہے اور گہری لہریں اسے ڈرا رہی ہوتی ہیں۔ سید عون زیدی سی مین ہیں جو کہ گزشتہ 10 سال سے سمندر کی بلند لہروں کے درمیان موجود ہوتے ہیں۔
سید عون بتاتے ہیں کہ ہماری کئی عید اور رمضان سمندر کی لہروں میں جہاز پر گزرتے ہیں۔ جہاز پر سحری، افطاری کرنا اور عید منانا ایک منفرد تجربہ ہوتا ہے۔ سید عون اگرچہ فیملی سے دور رمضان اور عید مناتے ہیں مگر شکر ادا کرتے ہیں کہ انہیں کھانے کو ہر چیز میسر ہے۔
سید عون بتاتے ہیں کہ جب ہم سفر پر نکلتے ہیں دو ماہ کا راشن ساتھ لے کر نکلتے ہیں، ان میں پھل، سبزیاں، گوشت سمیت ضروری اشیاء شامل ہوتی ہیں۔ جبکہ سحری، افطاری اور نماز کے اوقات علاقے کے حساب سے دیکھ کر طے کیے جاتے ہیں۔
عون بتاتے ہیں کہ انہیں گھر کی یاد آتی ہے مگر یہاں بھی کام کرنا ہے۔ بحیرہ عرب کے بیچ میں جہاز چلانے والے مل بانٹ کر سحری اور افطاری کا اہتمام کرتے ہیں۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ جہاز میں زندگی گزارنے والے سمندر کے پانی کو ہی استعمال کرتے ہیں اگرچہ اس پانی کو دیگر ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے مگر پینے کے لیے جہاز میں الگ سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ ویڈیو انڈیپینڈنٹ اردو کی جانب سے اپلوڈ کی گئی تھی۔