سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے لاہور میں منعقد ہونے والے جلسے میں ایسی کئی دلچسپ خبریں سامنے آ رہی ہیں جو کہ سب کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو بتائیں گے کہ ترک خاتون اور سکھ شہری پاکستان آ کر خان صاحب کو کیسے سپورٹ کر رہے ہیں۔
ترکش دوشیزہ لاہور جلسے میں:
ترکی سے تعلق رکھنے والی خوبصورت دوشیزہ نے اس وقت سب کی توجہ حاصل کرلی جب فہد مغل نامی فیس بک پیج پر ان سے متعلق ایک ویڈیو اپلوڈ کی گئی، دراصل ویڈیو میں لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اور کراچی جلسے کے حوالے سے لاہور کے لبرٹی چوک پرپنڈال سجایا گیا تھا۔
اس پنڈال میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی، ترک دوشیزہ سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اردو نہیں آتی ہے، میں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ مجھے عمران خان پسند ہیں۔
کمزور اردو کے ساتھ ہاتھ میں جھنڈا تھامے اور چہرے پر پارٹی جھنڈے چسپاں کرے دوشیزہ کا کہنا تھا کہ مجھے بس عمران خان پسند ہیں اور انہی کے لیے میں خاص طور پر پاکستان آئی ہوں۔
دوشیزہ نے کراچی جلسے کے پیش نظر لاہور میں ہونے والے پنڈال میں شرکت کی تھی، جبکہ آج ہونے والے جلسے میں شرکت کا امکان ہے۔
سکھ یاتری:
خان صاحب کو سپورٹ کرنے لاہور جلسے میں بھارت سے سکھ شہری بھی آئے تھے، گرونانک تک باآسانی راہ ہموار کرنے پر سکھ یاتری آج بھی عمران خان کے شکر گزار ہیں۔
گرونانک گردوارے میں حاضری دینے آئے سکھ یاتریوں کو جب خان صاحب کے جلسے کے بارے میں معلوم ہوا تو فورا جلسے کا رخ کیا، سکھ یاتری کا کہنا تھا کہ ہمیں جیسے ہی پتہ چلا کہ خان صاحب کا جلسہ ہو رہا ہے ہم فورا یہاں آ گئے۔
ہم خان صاحب کو سپورٹ کرنے آئے ہیں، سکھ برادری میں عمران خان کو ایک اہم لیڈر اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو کے ساتھ جس طرح خان صاحب کا رویہ تھا اس سے ہمیں خوشی ہوئی۔
ہماری برادری کو یہ فائدہ ہوا ہے کہ ون ڈے ویزا کے ذریعے ہم باآسانی بابا گرونانک گردوارے پر حاضری دے سکتے ہیں۔ جب ہمارے لیے جو کہ بھارت میں بیٹھے ہیں، عمران خان نے اچھا سوچا ہے اور ہمیں ریلیف دیا ہے تو آپ پاکستانیوں کے لیے عمران خان فائدے کا اور اچھا کیوں نہیں سوچے گا۔
اسے موقع تو دو، کرونا بھی خان صاحب کے دور میں آیا، اسے بھی گنو، دنیا بھر میں مہنگائی ہوئی ہے، خان صاحب پر بھروسہ رکھو۔ سکھ یاتری اس حد تک خان صاحب کا سپورٹر معلوم ہو رہا تھا کہ اسے عمران خان کے بطور وزیر اعظم انہیں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بھی جانتا تھا۔