کراچی کے علاقے گولڈن ٹاؤن سے لاپتہ ہونے والی 14 سالہ دعا زہرہ کے ملنے کی اطلاع اور نکاح نامہ سامنے آنے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنزکا کہنا ہے کہ دعا کے ملنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد خان کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس کو کراچی پولیس نے لڑکی کا نکاح نامہ فراہم کیا، پولیس نکاح نامے پر موجود پتہ پر دعا کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا لاہور پولیس کراچی پولیس سے مسلسل رابطے میں ہے۔
ڈاکٹر عابد خان کا کہنا ہے کہ دعا زہرہ کے پولیس کو ملنے کی خبروں میں صداقت نہیں ہے۔، دعا زہرہ کی بازیابی کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔
وہیں دوسری جانب یہاں دعا کے والد کا بیان بھی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا ایڈیشنل آئی جی نے دعا کے ملنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
بلکہ انہوں نے خود مجھ سے اس حوالے معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔
دعا کے والد نے بتایا کہ ب فارم کے مطابق دعا زہرا کی عمر 14 برس ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیٹی کے لاہور سے ملنے کی معلومات پر بھروسہ نہیں، سانگھڑ سے ملنے والی بچی کو بھی دعا بتایا گیا تا، نکاح نامے میں بیٹی کی عمر 18 سال لکھی ہے۔
دعا کے والد نے کہا کہ بیٹی 27 تاریخ کو چودہ سال کی ہوگی، میری شادی 2005 میں ہوئی تھی۔
علاوہ ازیں جیو نیوز ے مطابق دعا کے نکاح نامہ کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی کہ مذکورہ نکاح نامے پر درج پتہ پر لڑکے کی رہائش کے شواہد نہیں ملے، دعا زہرا کے نکاح پر درج پتہ غلط نکلا ہے، نکاح نامے پر درج پتہ پر وکلا کے دفاتر ہیں