دعا زہرہ کیس میں گزرنے والا ہر لمحہ ایک نیا موڑ سامنے لارہا ہے۔ دعا کے والد مہدی کاظمی اور ان کی اہلیہ نے میڈیا کے سامنے پریش کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ “ابھی میری شادی کو ہی 14 سال نہیں ہوئے تو بچی کیسے بالغ ہوگئی“
مہدی کاظمی نے مزید کہا کہ “میرا صرف اتنا کہنا ہے کہ میری بچی کو یہاں لایا جائے اسے چائلڈ پروٹیکشن میں دیا جائے اور اس معاملے کی تحقیقات کروائی جائے کہ میری بیٹی کے ساتھ کیا ہوا ہے“
نکاح کہیں رجسٹرڈ نہیں ہے۔۔
میڈیا کے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے دعا کے والدین نے بتایا کہ بچی
10 دن سے گھر سے باہر ہے کچھ اور لوگوں کے پاس ہے وہ دباؤ ڈال کر جو چاہیں مرضی بیان دلوا دیں۔ اگر ہم غلط ہوتے تو میڈیا کے سامنے کیوں آتے۔ میری بچی کی پیدائش اسی محلے میں ہوئی سارا محلہ جانتا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کو کتنے پیار سے پالا ہے۔ صرف اسی بیٹی کو نہیں اپنی تمام بچیوں کو پیار سے پالا ہے جبکہ جس مولوی صاحب کا نام نکاح نامے پر درج ہے ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ نکاح نہیں پڑھایا اور نہ ہی نکاح کہیں رجسٹرڈ ہے“
والد نے میڈیا کو ثبوت پیش کردیا
جبکہ دعا کے والد نے ثبوت کے طور پر دعا کا پاسپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کردی جس میں اس کا سال پیدائش 2008 درج ہے اور اس حساب سے اس کی عمر 14 سال ہے۔