دعا زہرہ کیس کی گتھی آخر کار 11 روز بعد سلجھ ہی گئی اور یہ معلوم ہوگیا کہ وہ ظہیر نامی لڑکے کے ساتھ شادی کرچکی ہے۔
دعا زہرہ کی کئی ویڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں وہیں ان کی بازیابی کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور وائرل ہو رہی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دعا زہرہ اور ظہیر دونوں ایک کمرے سے نکل کر ساتھ باہر آرہے ہیں اور باہر سادہ لباس میں پولیس اہلکار بھی موجود ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دعا زہرہ پاکپتن کے قصبہ چالیس ایس پی آئی سے برآمد ہوئی ہے۔
پولیس نے جب پاکپتن میں ظہیر کے چچا جہانگیر کے گھر چھاپہ مارا تو اس نے بتایا کہ دعا اور ظہیر اس کے بھائی بشیر کے گھر پر موجود ہیں۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ظہیر احمد کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، وہ پنجاب یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کا ڈرائیور تھا جب کہ ظہیر کی والدہ بھی یونیورسٹی میں چوتھی کلاس کی ملازمہ ہے۔
واضح رہے دعا زہرہ اور ظہیر کے دمیان رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا۔ ظہیر نے یہ بھی بتایا کہ وہ دعا کے ساتھ 3 سال سے رابطے میں ہے۔