میں 2 دن تک بھوکا بھی رہا! زندگی میں دکھ اور خوشیاں دونوں دیکھے۔۔ محسن گیلانی اپنی زندگی کے بارے میں چند باتیں بتاتے ہوئے

image

“گھر والے اداکاری کے فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ لاہور میں کام کے لئے آیا تو ایک وقت ایسا بھی تھا جب میں نے دو دو دن تک فاقے کیے۔ ایک درخت تھا جہاں میں بھوکا بیٹھا تھا۔ جب میں کامیاب ہوگیا اور بچے بھی لاہور آگئے۔ اس دن میں بچوں کو اسی درخت کے نیچے لے گیا اور وہاں دسترخوان پر بٹھا کر کھانا کھلایا اور انھیں بتایا کہ بچوں یہ وہ جگہ ہے جہاں تمھارا باپ بھوکا تھا اور آج تم یہاں کھانا کھا رہے ہو۔ بس کبھی یہ مت بھولنا کہ تمھارے باپ نے کتنی محنت کی ہے“

40 سال سے اداکاری کررہے ہیں

یہ الفاظ ہیں معروف اداکار محسن گیلانی کے۔ محسن گیلانی گزشتہ 40 سالوں سے اداکاری کے شعبے سے منسلک ہیں اور کافی نام کما چکے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم محسن گیلانی کی نجی زندگی کے بارے میں چند حقائق یش کریں گے۔

ریڈیو اور تھیٹر سے کیریئر کا آغاز کیا

محسن گیلانی کا آبائی گھر ملتان میں ہے۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ وہ زیادہ تر کام کے سلسلے میں کراچی میں رہتے ہیں اور بیوی بچوں سے ملنے ملتان جاتے ہیں البتہ انھیں لاہور شہر سے کافی لگاؤ ہے۔ محسن گیلانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ریڈیو پاکستان کے ایک بچوں کے پروگرام سے کیرئیر کا آغاز کیا تھا جس کے بعد انھوں نے کافی عرصہ تھیٹر میں بھی کام کیا اس کے بعد وہ ٹیلیویژن میں اداکاری کرنے لگے۔

نجی زندگی

چنری اور سہیلی جیسے ڈراموں سے مشہور ہونے والے محسن گیلانی اب بھی ڈراموں میں باپ کے کردار کو کچھ اس انداز میں ادا کرتے ہیں کہ کردار اپنی الگ پہچان کرواتا ہے۔ ہر شخص کی طرح محسن گیلانی کی زندگی میں بھی بہت سے اتار چڑھاؤ آئے ہیں جن میں جوان بیٹی کی موت کا پہاڑ جیسا غم بھی شامل ہے۔

زندگی کا سب سے بڑا دکھ

ایک پروگرام میں محسن گیلانی نے بتایا کہ ان کی زندگی کا سب سے خوصورت لمحہ وہ تھا جب انھوں نے پہلی بار اپنی بیٹی کو گود میں اٹھایا جبکہ دو لمحہ جب ان کی بیٹی رخصتی میں ان کے گلے لگ کر روئی اور پھر ان سے الگ ہوگئی۔ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے محسن گیلانی کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ زندگی کا سب سے تلخ وقت بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب ان کی صاحبزادی اپنی بیٹی کو جنم دیتے ہوئے اللہ کو پیاری ہوگئی وہ وقت ان کے لئے بہت تکلیف دہ تھا۔

کوئی فیملی ٹائم میں مداخلت کرے یہ بیگم. کو پسند نہیں

اتنے بڑے غم کی موجودگی کے باوجود محسن گیلانی ہمیشہ ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ اس بات کی شکایت کرتی ہیں کہ وہ کبھی ان کے لئے کچھ پسند کرکے نہیں لائے بلکہ ہمیشہ ہی صرف پیسے دیتے ہیں۔ محسن گیلانی نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ بیگم کے ساتھ شاپنگ کرنے جاتے بھی ہیں تو وہاں لوگ ان ملنے آتے ہی جو ان کی اہلیہ کو بالکل اچھا نہیں لگتا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US