عید کی آمد کے ساتھ ہی گھروں میں صفائیاں شروع ہوجاتی ہیں اور تفصیلی صفائی کے ساتھ کونا کونا چمکایا جاتا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ رمضان میں برتن زیادہ نکلنے کی وجہ سے بغیر دھوئے یونہی چھوڑ دئیے جاتے ہیں جن سے کاکروچ کی بہتات ہوجاتی ہے ان کیڑے مکوڑوں کا لاکھ صفائی کرنے کے باوجود گھر کے کونوں میں اپنے گھر بنائے ہوتے ہیں اور دوائیاں ڈالے ہی اپنے گھروں میں گھس جاتے ہیں۔ آج ہم آپ کو گھر کے عام مگر ڈھیٹ کیڑے مکوڑے بھگانے کے طریقے بتائیں گے جن سے آپ کا زیادہ خرچہ بھی نہیں ہوگا۔
چھپکلی
ساری سردی غائب رہنے والی چھپکلیاں گرمیاں ہوتے ہی نمودار ہوجاتی ہیں۔ ان سے بچے تو کیا بڑے بھی گھبراتے ہیں اس لئے ہم آپ کو ایسے طریقے بتائیں گے جن سے یہ گھر میں آئیں گی ہی نہیں۔ ایک اسپرے بوتل میں پانی اور پسی ہوئی کالی مرچ ملا کر رکھ لیں اور وقتاً فوقتاً گھر کی دیوار، کھڑکی اور دروازوں پر اسپرے کریں۔ اس کے علاوہ لہسن کے چھلے ہوئے جوؤوں میں دھاگہ باندھ کر لٹکانے سے بھی چھپکلیاں اس جگہ سے دور رہتی ہیں۔
کاکروچ
کاکروچ اپنے منہ سے رطوبت خارج کرتے ہیں اس کے علاوہ مردہ خلیات بھی گراتے ہیں جس سے فوڈ پوائزننگ اور مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ لال بیگوں کو ختم کرنے کے لئے لونگ کا پاؤڈر بنا لیں اور کونوں میں چھڑک دیں ورنہ ثابت لونگ ہی کونوں میں ڈال دیں۔ اس کے علاوہ چینی اور بیکنگ سوڈا ملا کر بھی کونوں میں چھڑکا جاسکتا ہے جسے کھانے سے لال بیگ مر جائیں گے۔
مکھیاں
مکھیوں اور مچھروں سے تو سب ہی تنگ ہیں۔ انھیں ختم کرنے کے لئے کافور کی گولیاں لے آئیں اور اس کو جلا کر پورے گھر میں دھونی دیں۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ پانی میں کافور ملا کر گھر بھر میں اسپرے کیا جائے اس سے مچھر اور مکھیوں کے علاوہ باقی کیڑے مکوڑوں سے بھی نجات مل جائے گی۔