کیا میری حالت دیکھ کر لگتا ہے میں نے دعا کو مارا ہوگا؟ بیٹی کے بعد والد کا نیا بیان سامنے آ گیا

image

دعا زہرہ کا معاملہ جس حد تک میڈیا کی توجہ حاصل کر چکا ہے اس سے اب صارفین لمحہ با لمحہ اس معاملے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دعا زہرہ کے بیان کے بعد اب والد کا بھی باضابطہ طور پر انٹرویو سامنے آ گیا ہے۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی انٹرویو کے بارے میں بتائیں گے۔

دعا زہرہ کاظمی کے والد مہدی علی کاظمی سے انڈیپینڈینٹ اردو کی جانب سے گفتگو کی گئی جس میں والد نے کچھ ایسی باتوں کے بارے میں بتایا جو توجہ طلب ہیں۔

دعا کی جانب سے والد پر ہراسانی کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس کے بعد والد نے بھی وکیل سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ وہ نامعلوم افراد کے دباؤ میں آ کر بیانات دے رہی ہے۔

دعا زہرہ کے والد بتاتے ہیں کہ اگر آج زہرہ ہمارے ساتھ ہوتی تو آج یعنی 27 اپریل کو بیٹی کی سالگرہ دھوم دھام سے مناتے۔ لیکن شاید والد بیٹی کو سرپرائز دینے کے لیے پنجاب جا رہے ہیں، جہاں بیٹی اور والد کی ملاقات کا بھی امکان ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے رابطہ کیا ہے انہوں نے سپورٹ کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مجھے نہیں معلوم بیٹی کس بنا پر اپنی عمر 18 سال بتا رہی ہے، حالانکہ تمام ڈاکیومنٹس میں بیٹی کی عمر 14 سال ہے۔

بیٹی کے تشدد کے الزام پر والد کہتے ہیں کہ جس طرح عمر کے حوالے سے بیٹی جھوٹ بول رہی ہے اسی طرح تشدد کے جھوٹے الزامات لگانے کے لیے بھی بیٹی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ لیکن دعا کا کہنا تھا کہ والدین میری شادی زین العابدین سے زبردستی کرانا چاہتے تھے، جس پر والد نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ زین العابدین میرے بھائی کا بیٹا ہے مگر میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ میں بیٹی کی شادی کراؤں۔

تشدد کے حوالے سے والد کہتے ہیں کہ آپ میری حالت دیکھ لیں، کیا آپ کو لگتا ہے میں مارتا ہوں؟ بیٹی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ جبکہ ظہیر احمد سے متعلق والد بتاتے ہیں کہ یہ نام میں پہلی بار سنا ہے۔ وہ بھی اس وقت جب تفتیش کے دوران ظہیر احمد کی آئی ڈی سامنے آئی۔ بیٹی آن لائن گیم کے دوران باتیں کرتی تھی۔ بیٹی ایک سال سے زائد عرصے سے گیم کھیل رہی تھی۔

دعا کے والد مہدی کاظمی کا کہنا ہے کہ میری دعا ہے کہ ظہیر احمد شریف لڑکا ہو اور اس کے پیچھے کوئی گینگ نہ ہو۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US